Tafsir As-Saadi
10:104 - 10:106

کہہ دیجیے، اے لوگو! اگر ہو تم شک میں ، میرے دین سے (متعلق) تو نہیں عبادت کرتا میں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے لیکن میں تو عبادت کرتاہوں اللہ کی وہ جو وفات دیتا ہے تمھیں اور حکم دیا گیا ہوں میں اس بات کا کہ ہوں میں مومنوں میں سے (104) اور یہ کہ سیدھا رکھیں آپ منہ اپنا واسطے دین (اسلام) کے ، یکسو ہو کر! اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(105)اور مت پکاریں آپ سوائے اللہ کے ان کو جو نہ نفع دے سکتے ہیں آپ کواور نہ نقصان دے سکتے ہیں آپ کو، پس اگر آپ نے (ایسا) کیا تو بلاشبہ آپ بھی اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے (106)

[104] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔‘‘ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں ۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں ، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِيۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ﴾ ’’لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں ‘‘ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔
[105]﴿ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔‘‘ ﴿ وَاَنۡ اَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا﴾ ’’اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر‘‘ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔‘‘ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔
[106]﴿ وَلَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ﴾ ’’اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان‘‘ کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اگر ایسا کرو گے۔‘‘ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ۰۰﴾(لقمان: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟