قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔
[2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔
[3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔
[4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔
[6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔
[7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
[8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔
[9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔
[11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔