Tafsir As-Saadi
11:5 - 11:5

آگاہ رہو! بے شک وہ دہرے کرتے ہیں سینے اپنے تاکہ وہ چھپ جائیں اللہ سے، آگاہ رہو! جس وقت اوڑھتے ہیں وہ کپڑے اپنے، جانتا ہے اللہ جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ، بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (5)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت اور ان کی گمراہی کی شدت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں‘‘ ﴿ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ﴾ ’’تاکہ اس (اللہ) سے پردہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سے چھپائیں ۔ پس ان کے سینے اللہ کے علم کے لیے رکاوٹ بن جائیں تاکہ وہ ان کے احوال کو جان نہ سکے اور اس کی نگاہ کے لیے بھی تاکہ وہ ان کے حالات کو دیکھ نہ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس ظن باطل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡ ﴾ ’’سن لو جس وقت اوڑھتے ہیں وہ اپنے کپڑے۔‘‘ یعنی جب وہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس حال میں بھی ان کو خوب جانتا ہے جو کہ مخفی ترین حال ہے بلکہ ﴿ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ جو اقوال و افعال چھپاتے ہیں ﴿وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’دلوں کی باتوں کو جانتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ان ارادوں ، وسوسوں اور سوچوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ سراً یا جہراً نطق زبان سے بھی ظاہر نہیں کرتے... تب تم اپنے حال کو اپنے سینے کو موڑ کر اس سے کیسے چھپا سکتے ہو؟اس آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والوں اور آپ کی دعوت سے غافل لوگوں کے اعراض کا ذکر کرتا ہے، یعنی جب وہ رسول اللہﷺ کو دیکھتے ہیں تو شدت اعراض کی وجہ سے اپنے سینوں کو موڑ لیتے ہیں تاکہ آپ ان کو دیکھ سکیں نہ ان کو اپنی دعوت سنا سکیں اور نہ ان کو ان باتوں کی نصیحت کر سکیں جو ان کے لیے مفید ہیں ۔ کیا اس اعراض سے بھی بڑھ کر اعراض کی کوئی صورت ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وعید سناتا ہے کہ وہ ان کے تمام احوال کو جانتا ہے اور وہ اس سے مخفی نہیں ہیں اور وہ عنقریب ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دے گا۔