Tafsir As-Saadi
11:1 - 11:4

الٓرٰ، (یہ) کتاب ہے، محکم کی گئی ہیں آیتیں اس کی، پھر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں بڑے حکمت والے خبر دار کی طرف سے (1)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بے شک میں تمھارے لیے اسی کی طرف سے ڈرانے والا اورخوشخبری دینے والا ہوں (2)اور یہ کہ مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے، پھر توبہ کروتم اسی کی طرف، وہ فائدہ دے گا تمھیں فائدہ بہت اچھا ایک وقت مقرر تک اور وہ دے گا ہر فضل والے کو (بدلہ) اس کے فضل کااور اگر منہ پھیرو گے تم تو بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (3) اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری اور وہ اوپر ہرچیز کے خوب قادر ہے (4)

[1]﴿ كِتٰبٌ ﴾ یہ عظیم کتاب اور بہترین فضل و عنایت ہے۔ ﴿اُحۡكِمَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔‘‘ یعنی اس کی آیات کو بہت اچھے اور محکم طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی خبریں سچی، اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی، اس کے الفاظ نہایت فصیح اور اس کے معانی بہت خوبصورت ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ فُصِّلَتۡ ﴾ ’’پھر ان کی تفصیل بیان کردی گئی۔‘‘ یعنی ان کو علیحدہ علیحدہ اور معانی و بیان کی بہترین انواع کے ذریعے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ﴾ ’’حکمت والے کی طرف سے‘‘ وہ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق جگہ پر ان کو نازل کرتا ہے۔ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے اور اسی چیز سے روکتا ہے جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے ﴿ خَبِيۡرٍ ﴾ وہ تمام ظاہر و باطن کی خبر رکھتا ہے۔جب اس کتاب کا محکم کرنا اور اس کی تفصیل حکمت والی اور خبردار ہستی کی طرف سے ہے تب اس ہستی کی عظمت و جلال، حکمت و کمال اور بے کراں رحمت کے بارے میں مت پوچھ۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم کتاب کو محض اس مقصد کے لیے نازل فرمایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ عبادت صرف اللہ کی کرو‘‘ یعنی دین کو تمام تر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے کے لیے نازل فرمایا نیز یہ کہ اس کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ ﴿ اِنَّنِيۡ لَكُمۡ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے لیے‘‘ ﴿ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اس کی طرف سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ نَذِيۡرٌ ﴾ ’’ڈر سنانے والا۔‘‘ یعنی اس شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتا ہے۔ ﴿بَشِيۡرٌ ﴾ ’’خوشخبری دینے والا۔‘‘ یعنی اطاعت گزار بندوں کو دنیا و آخرت کے ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔
[3]﴿ وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی ان گناہوں کی بخشش مانگو جو تم سے صادر ہوئے ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کی طرف توبہ کرو۔‘‘ یعنی اپنی عمر میں جن گناہوں سے سابقہ پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے ذریعے سے توبہ کرو اور جن امور کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، انھیں چھوڑ کر ان امور کی طرف لوٹو جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو توبہ واستغفار پر مترتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا:﴿يُمَتِّعۡكُمۡ مَّؔتَاعًا حَسَنًا ﴾ ’’وہ تمھیں متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھیں رزق عطا کرے گا جس سے تم استفادہ کرو گے اور منتفع ہو گے۔ ﴿اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک وقت مقرر تک‘‘ یعنی تمھاری وفات تک ﴿ وَّيُؤۡتِ كُلَّ ذِيۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ﴾ ’’اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی دے گا۔‘‘ یعنی وہ تم میں سے اہل احسان کو اپنے فضل و کرم سے نوازے گا جو چیز انھیں پسند ہے وہ حاصل ہوگی جو ناپسند ہے وہ ان سے ہٹا دی جائے گی۔ یہ ان کی نیکی کی جزا ہے۔ ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اگر تم نے روگردانی کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے اس دعوت سے روگردانی کی جو میں نے تمھیں پیش کی ہے بلکہ تم نے اعراض کیا ہے اور بسا اوقات دعوت کو جھٹلایا ہے ﴿ فَاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘ اور وہ ہے روز قیامت، جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔
[4]﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ﴾ ’’تمھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے‘‘ تاکہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے اگر اعمال نیک ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو بدلہ بھی برا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور مردوں کو زندہ کرنا بھی ’’ہر چیز‘‘ کے زمرے میں شامل ہے اور اس کی خبر سب سے سچی ہستی نے دی ہے۔ پس اس خبر کا وقوع عقلاً اور نقلاً واجب ہے۔