اور (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور تھا عرش اس کا اوپر پانی کےتاکہ وہ آزمائے تمھیں کہ کون سا تمھارا اچھا ہے عمل (کرنے) میں ؟ اور البتہ اگر کہیں آپ کہ بے شک تم اٹھائے جاؤ گے بعد مرنے کے تو البتہ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر (7) اور البتہ اگر مؤخر کر دیں ہم ان (پر) سے عذاب ایک مدت گنی ہوئی تک تو البتہ ضرور کہیں گے وہ (کافر) کہ کون سی چیز روک رہی ہے اس کو؟ آگاہ رہو! جس دن آئے گا (عذاب) ان کے پاس تو نہیں پھیرا جائے گا وہ ان سےاور گھیر لے گا انھیں وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (8)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اسی نے ﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ‘‘ پہلا دن اتوار اور چھٹا دن جمعہ تھا اور جس وقت اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ساتویں آسمان کے اوپر۔ پس آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے کے بعد اپنے عرش پر مستوی ہوا، وہ تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور احکام قدریہ اور احکام شرعیہ میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔‘‘ تاکہ وہ اپنے اوامر و نواہی کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔فضیل بن عیاضa نے فرمایا: ’’سب سے اچھا عمل وہ ہے جو سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح ہو۔‘‘ ان سے پوچھا گیا ’’سب سے خالص اور سب سے زیادہ صحیح سے کیا مراد ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر عمل خالص ہو مگر صحیح نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا اور اگر عمل صحیح ہو مگر خالص نہ ہو تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول نہیں ۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہوتا ہے جو خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔‘‘ خالص عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صحیح عمل وہ ہے جس میں شریعت اور سنت کی پیروی کی گئی ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ١ۙ۬ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾(الطلاق: 65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مانند سات زمینیں اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کا حکم اترتا رہتا ہے تاکہ تم لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوق کو اپنی عبادت اور اپنے اسماء و صفات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے اور اسی چیز کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا وہ فلاح پانے والوں میں سے ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض کیا تو یہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو ایک جگہ جمع کرے گا اور پھر ان کو اپنے اوامر و نواہی کی بنیاد پر جزا دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کے بارے میں مشرکین کی تکذیب کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّـكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ یعنی اگر آپ ان سے کہیں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں ان کو آگاہ کریں تو یہ آپ کی تصدیق نہیں کریں گے بلکہ وہ نہایت شدت سے آپ کی تکذیب کریں گے اور آپ کی دعوت میں عیب چینی کریں گے اور کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ‘‘ مگر آگاہ رہو کہ یہ واضح حق ہے۔
[8]﴿ وَلَىِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّؔةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ ﴾ ’’اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب ایک معلوم مدت تک‘‘ یعنی ایک وقت مقررہ تک، جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دن بہت دیر سے آئے گا۔ تب وہ ظلم و جہالت کی بنا پر کہتے ہیں :﴿مَا يَحۡبِسُهٗ﴾ ’’کون سی چیز اس (عذاب) کو روکے ہوئے ہے؟‘‘ اس آیت کا مضمون ان کا رسول کو جھٹلانا ہے۔ وہ ان پر عذاب کے فوری طورپر نہ آنے کو رسول (ﷺ ) کے جھوٹا ہونے پر دلیل بناتے ہیں جنھوں نے ان کو عذاب واقع ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پس یہ کتنا بعید استدلال ہے! ﴿ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ ﴾ ’’دیکھو جس روز عذاب ان پر نازل ہوگا تو پھر ٹلے گا نہیں ‘‘ کہ وہ اپنے معاملے میں غور کر سکیں ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لے گا۔‘‘ یعنی نازل ہو کر ﴿ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ (عذاب) جس کے ساتھ یہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ وہ اسے نہایت حقیر سمجھتے تھے حتیٰ کہ جو ان کو عذاب کی وعید سناتا تھا وہ قطعی طور پر اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔