اور البتہ اگر چکھائیں ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت، پھر چھین لیں ہم وہ (رحمت) اس سے تو بے شک (ہو جاتا ہے) وہ انتہائی ناامید، بہت ناشکرا (9) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے راحت بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو ضرور کہے گا چلی گئیں برائیاں (دکھ درد) مجھ سے، بلاشبہ وہ بہت اترانے والا، بڑا شیخی بگھارنے والا ہے (10) مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور عمل کیے نیک، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (11)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ جاہل اور ظالم ہے بایں طور کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے، مثلاً:اسے صحت، رزق اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے، پھر وہ اس سے چھین لیتا ہے تو مایوسی اور ناامیدی کے سامنے جھک جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ثواب کی اسے ذرہ بھر امید نہیں رہتی اور اس کے دل میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ یہ تمام چیزیں دوبارہ عطا کر سکتا ہے یا ان جیسی اور چیزوں سے یا ان سے بہتر چیزوں سے اسے نواز سکتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اتراتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ بھلائی اس کے پاس ہمیشہ رہے گی اور کہتا ہے:﴿ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴾ ’’دور ہو گئیں برائیاں مجھ سے، بے شک وہ تو اترانے والا، شیخی خورہ ہے‘‘ یعنی اسے جو کچھ اس کی خواہشات نفس کے موافق عطا کیا گیا اس پر خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کے بندوں کے سامنے فخر اور تکبر کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز اسے غرور، خود پسندی، مخلوق الٰہی کے ساتھ تکبر کرنے، ان کے ساتھ حقارت سے پیش آنے اور انھیں کم تر سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا عیب ہو سکتا ہے؟
[11] یہ ہے انسان کی فطرت! سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ توفیق سے نواز دے اور اسے ان مذموم اخلاق سے نکال کر اخلاق حسنہ کی طرف لے جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مصائب اور تکالیف کے وقت اپنے نفس کو صبر پر مجبور کرتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے اور خوشی کے وقت بھی صبر کرتے ہیں ۔ پس خوشی میں اتراتے نہیں ہیں اور نیکیوں میں واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت ہے، جس سے ہر خوف زائل ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے‘‘ اور یہ نعمتوں سے بھرپور جنت کے حصول میں کامیابی ہے، جس میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی نفس چاہت کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔