بے شک اس میں یقینا نشان (عبرت) ہے اس شخص کے لیے جو ڈر گیا عذاب آخرت سے، وہ (یوم آخرت) ایک دن ہے کہ جمع کیے جائیں گے اس میں سب لوگ اور وہ دن ہے کہ حاضر کیے جائیں گے (اس میں سب)(103) اور نہیں مؤخر کرتے ہیں ہم اس دن کو مگر واسطے (پورا کرنے) وقت مقرر کے (104)(جب) وہ دن آجائے گا تو نہ کلام کرے گا کوئی نفس مگر اللہ کے حکم سے، پھر کوئی ان میں سے بد بخت ہو گا اور کوئی نیک بخت(105) پس لیکن وہ لوگ جو بدبخت ہو ں گے تو (وہ) آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا اور دھاڑنا ہو گا (106) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (آگ) میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، بے شک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے اس کو جو وہ چاہتا ہے (107)اور لیکن وہ لوگ جو نیک بخت بنائے گئے تو (وہ) جنت میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں جب تک (باقی) رہیں گے آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب، (یہ اللہ کی) عطاء ہے نہ ختم ہونے والی (108)
[103]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک ان میں ‘‘ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں ۔ ﴿ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے‘‘ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ ﴾ ’’یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ﴾ ’’اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا‘‘ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
[104]﴿ وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ ﴾ ’’ہم اس میں تاخیر نہیں کررہے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز کی آمد کو ہم موخر نہیں کرتے۔ ﴿ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍ ﴾ ’’مگر وقت مقرر کے لیے‘‘ یعنی جب دنیا کی مدت اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر مقرر کیا ہے پورا ہو جائے گا اس وقت وہ ان کو ایک اور جہان میں منتقل کرے گا اور وہاں ان پر اپنے احکام جزائی اسی طرح جاری کرے گا جس طرح اس دنیا میں ان پر احکام شرعیہ نافذ کیے تھے۔
[105]﴿يَوۡمَ يَاۡتِ ﴾ ’’جس روز وہ آجائے گا۔‘‘ یعنی جس روز یہ دن آئے گا اور تمام مخلوق اکٹھی ہوگی۔ ﴿ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِـاِذۡنِهٖ﴾ ’’اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرے گا‘‘ یہاں تک کہ اس روز انبیائے کرام اور مکرم فرشتے بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان میں سے بعض‘‘ یعنی تمام مخلوق میں سے ﴿ شَقِيٌّ وَّسَعِيۡدٌ ﴾ ’’بدبخت اور بعض نیک بخت ہیں ‘‘ بدبخت وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور خوش بخت وہ لوگ ہیں جو مومن اور متقی ہیں ۔
[106]﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا﴾ ’’تو جو بدبخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو بدبختی، رسوائی اور فضیحت میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿ فَفِي النَّارِ ﴾ تو وہ جہنم کے عذاب میں غوطے کھائیں گے اور آگ کا نہایت سخت عذاب ان کو جکڑ لے گا۔ ﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا’’ان كے ليے اس ميں ‘‘ يعني اس سختي كي وجه سے جس ميں وه مبتلا هوں گے۔ ﴿ زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ﴾ ’’چیخنا ہے اور دھاڑنا‘‘ اور یہ نہایت بری اور قبیح ترین آواز ہو گی۔
[107]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی اس جہنم میں جس کا عذاب یہ ہے ﴿ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’جب تک رہے گا آسمان اور زمین مگر جو چاہے آپ کا رب‘‘ یعنی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس مدت کے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس مدت کے دوران جہنم میں نہ رہیں اور یہ مدت جہنم میں داخل ہونے سے قبل کی ہے۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔ پس اس صورت میں استثناء جہنم میں دخول سے قبل کی مدت کی طرف راجع ہے، یعنی وہ تمام زمانوں تک جہنم میں رہیں گے سوائے اس زمانے کے جو جہنم میں داخل ہونے سے پہلے تھا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘ ہر وہ فعل جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے اور اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے، کر گزرتا ہے کوئی اسے اس کے ارادے سے روک نہیں سکتا۔
[108]﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا﴾ ’’اور جو نیک بخت ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں سعادت اور فوز و فلاح سے نوازا گیا ہے۔ ﴿ فَفِي الۡجَنَّةِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں مگر جو چاہے آپ کا رب۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مزید تاکید کے طور پر فرمایا: ﴿ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴾ ’’بخشش بے انتہا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور لذتیں عطا کرے گا وہ ہمیشہ رہیں گی اور کسی وقت بھی منقطع نہ ہوں گی۔ ہم اللہ کریم سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان خوش بخت لوگوں کی معیت عطا کرے۔