اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو اس نے کہا، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، نہیں ہو تم مگر جھوٹ گھڑنے والے (50) اے میری قوم! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اس ذات کے جس نے پیدا کیا مجھے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (51)اور اے میری قوم! مغفرت طلب کرو تم اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف ، وہ بھیجے گا بادل اوپر تمھارے خوب برسنے والےاور بڑھا دے گا تمھیں قوت میں ساتھ تمھاری (موجودہ) قوت کے اور مت روگردانی کرو مجرم بن کر(52) انھوں نے کہا، اے ہود! نہیں لایا تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سےاور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے (53) نہیں کہتے ہم مگر یہ کہ مبتلا کر دیا ہے تجھے کسی ہمارے معبود نے برائی (خلل دماغ) میں ، ہود نے کہا، بے شک میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ بے شک میں بری ہوں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو (54) سوائے اللہ کے، پس تدبیر کر لو تم مجھے نقصان پہنچانے کی سب مل کر ، پھر نہ مہلت دو تم مجھے (55)بے شک میں نے بھروسہ کیا ہے اوپر اللہ کے، جو رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا ، نہیں کوئی چلنے والا جاندار (زمین پر) مگر اللہ پکڑے ہوئے ہے پیشانی اس کی، بلاشبہ میرا رب اوپر سیدھے راستے کے ہے (56) پس اگر روگردانی کرو تم تو تحقیق پہنچا دی ہے میں نے تمھیں وہ چیز کہ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ اس کے تمھاری طرف اور (تمھارا) جانشین بنا دے گا میرا رب ایک اور قوم کو سوائے تمھارےاور نہ نقصان پہنچا سکو گے تم اسے کچھ بھی، بلاشبہ میرا رب اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (57) اور جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، اپنے فضل سےاور نجات دی ہم نے انھیں عذاب شدید سے (58) اور یہ عاد ہیں ، انھوں نے انکار کیا تھا آیتوں کا اپنے رب کی اور نافرمانی کی اللہ کے رسولوں کی اور پیروی کی انھوں نے حکم کی ہر سرکش عناد رکھنے والے کے (59) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، آگاہ رہو! بلاشبہ عاد (قوم) نے انکار کیا اپنے رب کا، سن لو! دوری ہے واسطے عاد، قوم ہود کے (60)
[50]﴿وَاِلٰى عَادٍ ﴾ ’’اور عاد کی طرف‘‘ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ’’عاد‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو سرزمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ ﴿اَخَاهُمۡ ﴾ ’’ان کے بھائی۔‘‘ نسب میں ان کے بھائی ﴿هُوۡدًا﴾ ’’ہود کو‘‘ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کر سکیں ۔ ﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم بہتان باندھتے ہو‘‘ یعنی ہودu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انھیں آگاہ کیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کو اختیار کر کے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا کی عبادت کے فساد کو واضح فرمایا۔
[51] پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اے میری قوم! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمھارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمھیں کہنا پڑے ’’یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے‘‘ میں تو تمھیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں ۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے‘‘ یعنی جس چیز کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
[52]﴿ وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ﴾ ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔‘‘ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’پھر اس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّؔدۡرَارًا﴾ ’’وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّيَزِدۡؔكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں ‘‘ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حم السجدہ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوۡا﴾ ’’اور روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ہو کر‘‘ یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
[53]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا‘‘ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لیے لازم نہیں بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہودu ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر کرتا ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔اگر ان کے ہاتھ پر کوئی معجزہ نہ بھی ظاہر ہوا ہوتا سوائے دعوت کے جس میں دین کو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خالص کرنے کی تاکید ہو، نیک عمل اور اخلاق جمیلہ کا حکم دیا گیا ہو اور اخلاق مذمومہ، یعنی شرک، فواحش، ظلم اور دیگر مختلف قسم کی برائیوں سے روکا گیا ہو نیز اس کی تائید میں ہودu کی وہ صفات بھی ہوں جو مخلوق میں سب سے اچھے اور سب سے سچے شخص کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو ان کی صداقت پر دلیل کے لیے یہی چیز کافی تھی… بلکہ عقلمند لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز مجرد خرق عادت معجزات سے زیادہ بڑی نشانی ہے۔ حضرت ہودu کی صداقت پر دلالت کرنے والی آیات و بینات میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ فرد واحد ہے، اس کے کوئی انصار و اعوان نہیں ، وہ اپنی قوم میں پکار پکار کر کہتا ہے اور ان کو عاجز کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ﴿ اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ ﴿قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’ہود نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان ہستیوں سے بیزار ہوں جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے پھر تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ وہ دشمن ہیں ان کے پاس سطوت، غلبہ اور اقتدار ہے وہ ہر طریقے سے اس روشنی کو بجھانا چاہتے ہیں جسے ہودu لے کر آئے ہیں وہ ان دشمنوں کی کوئی پروا نہیں کرتے اور یہ ہیں کہ ہودu کو کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز اور بے بس ہیں ۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔کفار نے کہا:﴿ وَّمَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡۤ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ۔‘‘ یعنی ہم مجرد تیرے قول پر جس پر… ان کے زعم کے مطابق… کوئی دلیل نہیں ، اپنے معبودوں کی عبادت نہیں چھوڑ سکتے ﴿ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ہم تیرا یقین کرنے والے نہیں ‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے ایمان کے بارے میں اپنے نبی ہودu کے ساتھ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ اپنے کفر میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔
[54]﴿اِنۡ نَّقُوۡلُ ﴾ ہم تیرے بارے میں کہتے ہیں : ﴿ اِلَّا اعۡتَرٰىكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ﴾ ’’تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے‘‘ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کر کے تجھے جنون لاحق کر دیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کر دیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کر دی۔ انھوں نے کس طرح سب سے سچے انسان کو، جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔
[55] اسی لیے ہودu نے واضح فرمایا کہ انھیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی طرف سے انھیں کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی، بنا بریں فرمایا:﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ﴾ یعنی تم سب ہر ممکن طریقے سے مجھے نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر لو ﴿ ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’پھر مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو۔‘‘
[56]﴿اِنِّيۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے اللہ پر توکل کیا۔‘‘ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ ﴿ رَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ﴾ ’’جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمھاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾ ’’جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے۔ اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمھیں مجھ پر مسلط نہ کرے تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں اس کی کوئی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے‘‘ یعنی میرا رب عدل و انصاف اور حکمت پر ہے وہ اپنی قضا و قدر، شرع وامر، جزا اور اپنے ثواب و عقاب میں قابل ستائش ہے اس کے افعال صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے نہیں جس کی وجہ سے اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔
[57]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پس اگر تم روگردانی کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمھیں بلاتا ہوں ﴿ فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’تو تحقیق میں پہنچا چکا تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا تھا‘‘ پس میرے ذمے تمھارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں ۔ ﴿وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّيۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمھارے علاوہ کسی اور قوم کو‘‘ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ﴿ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـًٔـا﴾ ’’اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے‘‘ کیونکہ تمھارا ضرر تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے اور جو کوئی برے کام کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کے لیے ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡؔظٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘
[58]﴿ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب نامبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ ﴿ مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾(الذاریات: 51؍42) ’’جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کیے دیتی تھی‘‘ ﴿ نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَنَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا‘‘ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کر دی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
[59]﴿ وَتِلۡكَ عَادٌ﴾ ’’یہ قوم عاد تھی‘‘ جن پر ان کے ظلم کی پاداش میں یہ عذاب نازل فرمایا کیونکہ ﴿ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا‘‘ اور کہنے لگے: ﴿ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ ﴾ ’’تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے‘‘ پس اس سے واضح ہوا کہ ہودu کی دعوت کی صداقت کے بارے میں انھیں یقین تھا، انھوں نے محض عناد کی وجہ سے اس کا انکار کیا تھا۔ ﴿ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ ﴾’’اورانھوں نے اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور جو کوئی کسی ایک رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ تمام رسولوں کی نافرمانی کرتا ہے کیونکہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک ہے۔﴿ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ ﴾ ’’اور انھوں نے حکم مانا ہر اس شخص کا جو سرکش تھا‘‘ یعنی وہ شخص جو جبر و استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ﴿ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’سرکش‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انھوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔
[60]﴿وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً ﴾ ’’اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار‘‘ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے روز بھی‘‘ وہ ملعون ٹھہریں گے۔ ﴿ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ﴾ ’’خبردار! بے شک عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا‘‘ انھوں نے اس ہستی کا انکار کر دیا جس نے ان کو پیدا کیا، ان کو رزق دیا اور ان کی تربیت کی ﴿ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ ﴾ ’’سنو! ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ہر بھلائی سے دور اور برائی سے قریب کر دیا۔