اور البتہ تحقیق آئے قاصد ہمارے (فرشتے) ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے، انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے بھی کہا سلام ہو( تم پر) ، پھر نہ دیر کی اس نے کہ لے آیا بچھڑا بھنا ہوا (69) پس جب دیکھے ابراہیم نے ہاتھ ان کے کہ نہیں پہنچتے طرف اس (بچھڑے) کی تو اوپرا جانا انھیں اور (دل میں ) محسوس کیا ان سے خوف، انھوں نے کہا، نہ ڈر (ہم سے) بلاشبہ ہم تو بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط کی (70) اور بیوی ابراہیم کی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی، پھر خوشخبری دی ہم نے اسے اسحٰق کی اور بعد اسحٰق کے یعقوب (پوتے) کی (71)اس نے کہا، ہائے ہائے! کیا (اب) میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے عجیب ہی (72) فرشتوں نے کہا، کیاتو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر، اے اہل بیت! بلاشبہ اللہ قابل تعریف ہے، نہایت بزرگی والا(73)پس جب چلا گیا ابراہیم سے خوف اور آگئی اس کے پاس خوشخبری تو وہ جھگڑتا تھا ہم سے قوم لوط کے بارے میں (74)بلاشبہ ابراہیم البتہ بڑا بردبار، بہت آہ وزاری کرنے والا، رجوع کرنے والا تھا (75)اے ابراہیم! اعراض کر اس بات سے، بے شک تحقیق آگیا ہے حکم تیرے رب کااور بلاشبہ وہ لوگ ، آئے گا ان پر (ایسا) عذاب جو نہیں پھیراجائے گا (ان سے)(76) اور جب آئے قاصد ہمارے لوط کے پاس تو مغموم ہوا وہ بوجہ ان کےاور تنگ ہوا بوجہ ان کے دل میں اور کہا یہ دن ہے انتہائی سخت(77) اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی ہوئی اس کی طرف اور پہلے ہی سے تھے وہ عمل کرتے برے، لوط نے کہا، اے میری قوم! یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، وہ بہت پاکیزہ ہیں تمھارے لیے، پس ڈرو تم اللہ سے اورنہ رسوا کرو مجھے میرے مہمانوں میں ، کیا نہیں ہے تم میں کوئی بھی مرد بھلا؟ (78) انھوں نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں ہمارے لیے تیری (قوم کی) بیٹیوں میں کوئی حق (دلچسپی) اور بلاشبہ تو البتہ جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں (79) لوط نے کہا، کاش کہ ہوتی میرے لیے تمھارے مقابلے میں کوئی قوت یا پناہ پکڑتا میں طرف کسی مضبوط سہارے کے(80) فرشتوں نے کہا، اے لوط! بے شک ہم قاصد ہیں تیرے رب کے، ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے وہ تیری طرف، پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاورنہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی سوائے تیری بیوی کے، بے شک پہنچنے والا ہے اسے وہ (عذاب) جو پہنچے گا انھیں ، بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا نہیں ہے صبح قریب؟(81)پس جب آگیا حکم (عذاب) ہمارا تو کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے (اور نیچے والے حصے کو اوپر) اور برسائے ہم نے ان بستیوں پر پتھر کھنگر کی قسم سے، تہ بہ تہ(82) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں (سے) اور نہیں وہ بستی ان ظالموں سے دور(83)
[69]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ﴾ ’’تحقیق آئے ہمارے مکرم فرشتے‘‘ ہمارے قاصد ﴿ اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم(u) کے پاس‘‘ ﴿ بِالۡبُشۡرٰى﴾ ’’بشارت کے ساتھ۔‘‘ یعنی بیٹے کی بشارت کے ساتھ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں اور ان کو اسحٰقu کی خوشخبری دیتے جائیں ۔ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس حاضر ہوئے ﴿ قَالُوۡا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ ﴾ ’’تو انھوں نے سلام کیا، انھوں نے بھی (جواب میں )سلام کہا۔‘‘ یعنی فرشتوں نے جناب ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے سلام کا جواب دیا۔ اس آیت مقدسہ میں سلام کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملت ابراہیمی میں کلام کرنے سے پہلے سلام کا طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور مناسب یہ ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے سے زیادہ بلیغ ہو کیونکہ جملہ فعلیہ کے ذریعے سے ان کا سلام تجدد پر دلالت کرتا ہے اور جملہ اسمیہ کے ذریعے سے ان کے سلام کا جواب ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جیسا کہ عربی زبان کے علم میں معروف ہے۔﴿ فَمَا لَبِثَ ﴾ ’’انھوں نے کچھ تاخیر نہ کی۔‘‘ یعنی جب ابراہیمu کے پاس آئے تو انھوں نے تاخیر نہ کی ﴿ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ ﴾ ’’اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔‘‘ یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر گئے اور اپنے مہمانوں کے لیے ایک موٹا تازہ اور گرم پتھر پر بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کے سامنے پیش کیا اور بولے: ﴿ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾(الذاریات:51؍27) ’’تم کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘
[70]﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں (ابراہیمu) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے‘‘ ﴿نَؔكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾ ’’تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے‘‘ ابراہیمu نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں ۔ ابراہیمu کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ڈریں نہیں ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
[71]﴿وَامۡرَاَتُهٗ﴾ ’’اور اس کی بیوی‘‘ یعنی حضرت ابراہیمu کی بیوی ﴿ قَآىِٕمَةٌ﴾ ’’کھڑی تھی۔‘‘ یعنی کھڑی اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی ﴿فَضَحِكَتۡ﴾ ’’وہ ہنس پڑی‘‘ جب اس کو مہمانوں کی اصلیت کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کس غرض سے بھیجا گیا ہے تو وہ تعجب سے ہنس پڑی ﴿ فَبَشَّرۡنٰهَا بِـاِسۡحٰؔقَ١ۙ وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’پس ہم نے اسے خوش خبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی‘‘
[72] اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا ﴾ ’’وہ بولیں ، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے‘‘ پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ ﴾ ’’یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘
[73]﴿ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی تعجب نہیں ، اس لیے کہ اس کی مشیت تامہ ہر شے میں نافذ ہے اس کی قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی چیز کو انہونی اور نادر نہ سمجھا جائے خاص طور پر اس مبارک گھر والوں کے اس معاملے میں جس کی تدبیر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ ﴿ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَؔكٰتُهٗ ﴾ ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا احسان اور اس کی برکات ہیں ، یعنی احسان اور بھلائی میں اضافہ اور خیر الٰہی کا نزول ہمیشہ رہے گا ﴿ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ﴾ ’’تم پر اے گھر والو! بے شک وہ تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صفات حمیدہ کا مالک ہے، اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ اس کے تمام افعال قابل تعریف ہیں کیونکہ اس کے تمام افعال احسان، جود، بھلائی، حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ (مَجِید) اور (مَجَد) سے مراد اس کی صفات کی عظمت اور وسعت ہے وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کی ہر صفت کامل، تام اور عام ہے۔
[74]﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ ﴾ ’’جب ابراہیم سے خوف دور ہوا‘‘ جو مہمانوں کی آمد پر انھیں لاحق ہوا تھا۔ ﴿ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’اور (بیٹے کی) خوشخبری ملی‘‘ تب وہ قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا١ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِيۡهَا١ٞ ٙ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ﴾(العنکبوت: 29؍32) ’’کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں فرشتوں نے کہا جو لوگ وہاں رہتے ہیں ہم انھیں زیادہ جانتے ہیں ، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔‘‘
[75]﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک ابراہیم بڑے بردبار تھے۔‘‘ یعنی ابراہیمu اچھے اخلاق والے اور کشادہ دل شخص تھے اور جاہلوں کی جہالت پر غیظ وغضب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ اَوَّاهٌ ﴾ ’’نرم دل تھے‘‘ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے رہتے تھے۔ ﴿ مُّنِيۡبٌ ﴾ ’’رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف توجہ کے ساتھ اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اسی لیے وہ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حتمی فیصلہ کر دیا تھا۔
[76] ابراہیمu سے کہا گیا: ﴿ يٰۤا ِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اے ابراہیم اس سے اعراض کریے‘‘ یعنی اس جھگڑے کو چھوڑیے۔ ﴿ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’تمھارے رب کا حکم آچکا ہے۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے ﴿ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾ ’’اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے، جو لوٹایا نہیں جائے گا‘‘ اس لیے تمھارے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
[77]﴿ وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارے فرشتے آئے۔‘‘ یعنی جب وہ فرشتے آئے جو جناب ابراہیمu کے پاس سے روانہ ہوئے تھے۔ ﴿ لُوۡطًا سِيۡٓءَ بِهِمۡ﴾ ’’لوطu کے پاس تو ان کا آنا ان پر بہت شاق گزرا۔‘‘ ﴿ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور تنگ ہوئے دل میں اور بولے آج کا دن بڑا سخت ہے‘‘ یعنی بہت حرج والا دن ہے کیونکہ لوطu کو علم تھا کہ ان کی قوم ان کو نہیں چھوڑے گی چونکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، نوجوان، بے ریش لڑکوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے ان کے بارے میں ان کے دل میں یہ خیال گزرا تھا۔
[78]﴿ وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ﴾ ’اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس بے تحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے لوگ بھاگے بھاگے آئے وہ لوطu کے مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَكُمۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! یہ جو میری لڑکیاں ہیں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں ۔‘‘ یعنی میری یہ بیٹیاں تمھارے لیے میرے مہمانوں سے زیادہ پاک ہیں ۔ جناب لوطu کا یہ قول اسی طرح ہے۔ جس طرح حضرت سلیمانu نے تحقیق حق کی خاطر ان دونوں عورتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ متنازع فیہ بچے کو دو ٹکڑوں میں برابر کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دیا جائے کیونکہ انھیں علم تھا کہ ان کی بیٹیاں ان کا مقصد نہ تھیں اور نہ ان میں ان کا کوئی حق تھا۔ اس سے جناب لوطu کا سب سے بڑا مقصد اس بڑی بدکاری کو روکنا تھا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِيۡ ضَيۡـفِيۡ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔‘‘ یعنی یا تو تم اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی رعایت رکھو یا تم میرے مہمانوں کے بارے میں میرا لحاظ رکھو اور مجھے ان کے سامنے رسوا نہ کرو۔ ﴿اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ ﴾ ’’کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی سمجھ دار نہیں ہے‘‘ جو تمھیں روکے اور تمھیں زجر و توبیخ کرے۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور مروت سے بالکل خالی تھے۔
[79]﴿ قَالُوۡا﴾ انھوں نے لوطu سے کہا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِيۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ١ۚ وَاِنَّكَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ ﴾ ’’تو تو جانتا ہے ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم صرف مردوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے ہیں اور عورتوں میں ہمیں کوئی رغبت نہیں ۔
[80] پس لوطu کو شدید قلق ہوا ﴿قَالَ لَوۡ اَنَّ لِيۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِيۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’انھوں نے کہا، کاش میرے پاس تمھارے مقابلے میں قوت ہوتی یا میں کسی مستحکم پناہ میں جا بیٹھتا‘‘مثلاً: کوئی قبیلہ ہوتا جو تمھاری دست درازیوں کو روکتا۔ یہ بات انھوں نے اسباب محسوسہ کی بنا پر کہی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ لوطu سب سے زیادہ مضبوط سہارے، یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے۔ جس کی قوت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
[81] اس لیے جب ان کے معاملے کی انتہا ہوگئی اور کرب شدید ہوگیا تو ﴿ قَالُوۡا ﴾ فرشتوں نے لوطu سے کہا: ﴿ يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ ﴾ ’’اے لوط! ہم تیرے رب کے فرشتے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتوں نے لوطu کو اپنی اصلیت کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ انھیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ﴿ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘ پھر حضرت جبریلu نے اپنا پَر ہلایا اور ان کو اندھا کر دیا اور وہ لوطu کو صبح آنے کی دھمکی دیتے ہوئے چلے گئے۔ فرشتوں نے حضرت لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ﴿ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’رات کے کسی حصہ میں ‘‘ یعنی طلوع صبح سے بہت پہلے رات کے کسی حصے میں تاکہ وہ صبح ہوتے بستی سے بہت دور نکل جائیں ۔ ﴿ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔‘‘ یعنی بستی سے نکلنے میں جلدی کریں تمھارا مقصد عذاب سے بچنا ہونا چاہیے، لہٰذا پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔ ﴿ اِلَّا امۡرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا ﴾ ’’بجز تیری بیوی کے، اسے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ ﴿ مَاۤ اَصَابَهُمۡ﴾ ’’وہی (عذاب) جو ان پر آئے گا۔‘‘ کیونکہ یہ عورت بھی اپنی قوم کے گناہ میں برابر کی شریک تھی۔ جب حضرت لوطu کے پاس مہمان آتے تو یہ ان کی آمد کے بارے میں کفار کو اطلاع دیا کرتی تھی۔ ﴿اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ﴾ ’’ان کے وعدے کا وقت صبح ہے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ گویا لوطu کی خواہش تھی کہ ان پر بہت جلد عذاب نازل ہو جائے، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ ﴾ ’’کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘
[82]﴿فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’تو جب ہمارا حکم آیا۔‘‘ یعنی جب ان پر نزول عذاب کا وقت آپہنچا ﴿جَعَلۡنَا﴾ ’’کردیا ہم نے۔‘‘ ان کی بستیوں کو ﴿ عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’اوپر نیچے‘‘ یعنی ہم نے تلپٹ کر دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ﴾ ’’اور برسائے ان پر پتھر کھنگر کے‘‘ یعنی سخت حرارت والی آگ میں پکے ہوئے پتھر ان پر برسائے گئے۔ ﴿ مَّنۡضُوۡدٍ﴾ ’’تہ بہ تہ‘‘ یعنی ان پر تابڑ توڑ پتھر برسائے گئے جو بستی سے بھاگنے والوں کا پیچھا کرتے تھے۔
[83]﴿ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس‘‘ یعنی ان پر عذاب اور غضب کی علامت لگی ہوئی تھی ﴿وَمَا هِيَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ﴾ ’’اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ۔‘‘ یعنی جو لوگ قوم لوط کے فعل کی مشابہت کرتے ہیں یہ بستی ان سے کچھ دور نہیں ۔ پس بندوں کو ان جیسے کام کرنے سے بچنا چاہیے تاکہ ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔