اور (بھیجا ہم نے) طرف (اہل) مدین کی ان کے بھائی شعیب کو، اے میری قوم! تم عبادت کرو اللہ کی نہیں واسطے تمھارے کوئی معبود سوائے اس کے، اور نہ کم کرو تم ماپ اور تول کو، بے شک میں دیکھتا ہوں تمھیں آسودگی میں اور بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیرنے والے دن کے (84) اور اے میری قوم! پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کےاور مت کم دو تم لوگوں کو چیزیں ان کی اور نہ پھرو تم زمین میں فسادی بن کر (85) بچت اللہ کی (جائز نفع) بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم مومن اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(86)انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز حکم دیتی ہے تجھے یہ کہ ہم چھوڑ دیں ان (معبودوں ) کو جن کی عبادت کرتے تھے باپ دادا ہمارے؟ یا (چھوڑ دیں ہم) کرنا اپنے مالوں میں جو ہم چاہیں ، بلاشبہ تو البتہ بہت بردبار، بڑا سمجھدار ہے (87) شعیب نے کہا، اے میری قوم! بھلا بتلاؤ! ( میں کیسے نافرمان بنوں ؟)اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے،اور دیا ہو اس نے مجھے اپنی طرف سے رزق اچھا اور نہیں چاہتا میں کہ مخالفت کروں تمھاری طرف ان کاموں کے کہ روکتا ہوں میں تمھیں ان سے، نہیں چاہتا میں مگر اصلاح( تمھاری)، جس قدر استطاعت رکھتا ہوں میں اور نہیں توفیق مجھے مگر ساتھ اللہ(کی مدد) کے، اسی پر توکل کیامیں نے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (88) اور اے میری قوم! نہ باعث بنے تمھارے لیے میری مخالفت (اس بات کی) کہ پہنچے تمھیں مانند اس عذاب کے جو پہنچاقوم نوح کو اور قوم ہود کو اور قوم صالح کو اور نہیں قوم لوط تم سے کچھ دور (89) اور تم مغفرت طلب کرو اپنے رب سے ، پھر توبہ کرو اسی کی طرف، بلاشبہ میرا رب بڑا رحم والا نہایت محبت کرنے والا ہے (90)انھوں نے کہا، اے شعیب! نہیں سمجھتے ہم بہت کچھ اس میں سے جو تو کہتا ہےاور بے شک ہم البتہ دیکھتے ہیں تجھے درمیان اپنے ضعیف اور اگر نہ ہوتا قبیلہ تیرا تو یقینا سنگسار کر دیتے ہم تجھےاور نہیں ہے تو ہم پر کچھ غالب (91) شعیب نے کہا، اے میری قوم! کیا میر ا قبیلہ زیادہ دباؤ والا ہے تم پر اللہ سے؟ اور کر دیا تم نے اللہ کو پیچھے ڈالا ہوا اپنی پیٹھوں کے ، بے شک میرا رب ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو گھیرنے والا ہے (92) اور اے میری قوم! تم عمل کرو اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ میں بھی عمل کر رہا ہوں عنقریب تم جان لوگے کہ کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر (ایسا) عذاب جو رسوا کرے گا اسے؟ اور کون ہے کہ وہ جھوٹا ہے؟اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں (93) اور جب آیاحکم (عذاب) ہمارا تو نجات دی ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے ساتھ اس کے، ساتھ اپنی رحمت کےاورآپکڑا ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے، پس وہ ہو گئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (94) گویا کہ وہ نہ رہے تھے ان میں ، آگاہ رہو! دوری ہے (اہل) مدین کے لیے جیسے (رحمت سے) دور ہوئے تھے ثمود (95)
[84]﴿ وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اور مدین کی طرف بھیجا‘‘ مدین ایک معروف قبیلہ تھا جو فلسطین کے زیریں علاقے مدین میں آباد تھا۔ ﴿ اَخَاهُمۡ ﴾ یعنی نسب میں ان کے بھائی ﴿ شُعَيۡبًا﴾ ’’شعیب (u) کو۔‘‘ گویا وہ جناب شعیبu کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان سے ان کے لیے کچھ حاصل کرنا ممکن تھا۔ ﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبودیت کو خالص کرو… کیونکہ وہ لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے، اس لیے شعیبu نے ان کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔ ﴿ وَلَا تَنۡقُصُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو‘‘ بلکہ ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾ ’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ تم بے شمار نعمتوں ، صحت اور کثرت مال و اولاد سے بہرہ مند ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو کچھ عطا کر رکھا ہے اس پر اس کا شکر کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے یہ نعمتیں واپس لے لے ﴿ وَّاِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب سے‘‘ یعنی ایسا عذاب جو تمھیں گھیر لے گا اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
[85]﴿وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡـيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اے میری قوم، پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ، جو تم چاہتے ہو کہ تمھیں بھی اسی طرح دیا جائے۔ ﴿ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور ناپ اور تول میں کمی کر کے لوگوں کی چیزیں چوری نہ کرو۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ‘‘ کیونکہ گناہوں پر اصرار، ادیان و عقائد اور دین و دنیا کو خراب اور کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
[86]﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’جو بچ رہے اللہ کا دیا، وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جو بھلائی باقی رکھی ہے وہ تمھارے لیے کافی ہے، پس ایسے معاملے کی طمع نہ کرو جس سے تم مستغنی ہو اور وہ تمھارے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم مومن ہو‘‘ پس اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’اور میں تم پر نگران نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھارے اعمال کا محافظ اور ان پر نگران نہیں ہوں۔ تمھارے اعمال کا نگران تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میں تو تمھیں وہ پیغام پہنچا دیتا ہوں جو میری طرف بھیجا جاتا ہے۔
[87]﴿قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے‘‘ یہ بات انھوں نے اپنے نبی سے تمسخر کرتے ہوئے اور ان کی دعوت کے قبول کرنے کو بعید سمجھتے ہوئے کہی تھی۔ ان کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تو ہمیں ان باتوں سے صرف اس لیے منع کرتا ہے کہ تو نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر یہ معاملہ ہے تو کیا ہم ان معبودوں کی عبادت، جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، محض تیرے قول پر چھوڑ دیں ، جس پر کوئی دلیل نہیں ؟ سوائے اس کے کہ وہ تیری خواہش کے موافق ہے۔ پس ہم اپنے عقل مند آبا ءو اجداد کو چھوڑ کر تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں ؟اسی طرح تمھارا ہمیں یہ کہنا ﴿ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِيۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا﴾ ’’یا چھوڑ دیں ہم کرنا اپنے مالوں میں جو چاہیں ‘‘ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے موافق تصرف نہ کریں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق ماپ اور تول کو پورا کریں اور مال میں جو حقوق واجبہ ہیں ، انھیں ادا کریں ۔ ہم ایسا نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنے اموال کے بارے میں جو چاہیں گے کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارے اموال ہیں ان میں تصرف کا تمھیں کوئی حق نہیں ۔ بنابریں انھوں نے ازراہ تمسخر کہا:﴿ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ﴾ ’’تو تو بڑا بردبار اور راست باز ہے۔‘‘ یعنی تو تو وہ شخص ہے کہ حلم و وقار تیرا اخلاق ہے، رشد و ہدایت تیری عادت ہے، رشد و ہدایت کے سوا تجھ سے کچھ صادر نہیں ہوتا ،تو رشد و ہدایت کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا اور تو گمراہی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا… یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد درحقیقت یہ تھا کہ شعیبu اس سے برعکس حماقت اور گمراہی کے اوصاف سے متصف ہیں … اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم تو حلیم و رشید ہو اور ہمارے آباء و اجداد احمق اور گمراہ؟ اور یہ قول جس کی انھوں نے تمسخر اور استہزاء کے طریقے سے تخریج کر کے معاملے کو شعیبu کے قول کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کی ہے… ایسے نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معاملہ وہی ہے جو وہ کہتے ہیں ۔ بے شک شعیبu کی نماز انھیں حکم دیتی ہے کہ وہ انھیں ان باطل معبودوں کی عبادت سے روکیں جن کی عبادت ان کے گمراہ آباء و اجداد کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم اپنے اموال میں ویسے ہی تصرف کریں گے جیسے ہم چاہیں گے… کیونکہ نماز خود فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے بڑھ کر کون سا کام برا اور فحش ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کون فحش کاموں کا ارتکاب کرتا ہے جو اللہ کے بندوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے یا ناپ تول میں کمی کر کے ان کے مال کو چرا لیتا ہے اور شعیبu کا وصف تو حلم و رشد ہے۔
[88]﴿قَالَ﴾ جناب شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! بھلا بتلاؤ، اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی خواہ مجھے اس وحی کی صحت پر یقین اور اطمینان ہو ﴿ وَرَزَقَنِيۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا ﴾ ’’اور اس نے روزی دی مجھ کو اچھی روزی‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے رزق کی مختلف اصناف عطا کر رکھی ہیں ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾’’اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں ‘‘ پس میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں تو ناپ تول سے منع کروں اور خود اس برائی کا ارتکاب کرتا رہوں اور اس بارے میں تہمت اٹھاتا رہوں بلکہ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ میں جس کام سے تمھیں روکتا ہوں اس کو سب سے پہلے خود ترک کرتا ہوں ۔﴿ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ﴾ ’’میں تو اصلاح کرنی چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے‘‘ یعنی اس کے سوا میرا کوئی مقصد نہیں کہ تمھارے احوال کی اصلاح ہو اور تمھارے منافع درست ہوں اور اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا میرا مقصد نہیں ۔ حسب استطاعت میں کام کرتا ہوں اور چونکہ اس میں ایک قسم کے تزکیہ نفس کا دعویٰ ہے اس لیے اس قول کے ذریعے سے اس کو دور کیا ﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور سب صرف اللہ کی توفیق سے ہے‘‘ یعنی بھلائی کے کام کرنے اور شر سے بچنے کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئی ہے۔ اس میں میری قوت و اختیار کا کوئی دخل نہیں ۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر توکل کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کے کافی ہونے پر مجھے اعتماد ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾’’اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اس نے مختلف اقسام کی عبادات کا جو مجھے حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور ان دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن کے احوال درست ہوتے ہیں :۱۔ اپنے رب سے مدد طلب کرنا۔ ۲۔ اور اس کی طرف رجوع کرنا… جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾(ھود: 11؍123) ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اسی پر بھروسا کر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحہ: 1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔‘‘
[89]﴿وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِيۡۤ﴾ ’’اے میری قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے۔‘‘ یعنی میری دشمنی اور مخالفت تمھیں ایسے کام پر آمادہ نہ کرے۔ ﴿ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ ﴾ کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے۔ ﴿ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ١ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّؔنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ ﴾ ’’جو نازل ہوا قوم نوح، قوم ہود یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے‘‘ یعنی زمان و مکان، دونوں اعتبار سے تم سے دور نہیں ۔
[90]﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ﴾ ’’اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔‘‘ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ﴾ ’’پھر اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ﴾ ’’بے شک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے (اَلْوَدُود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ (ودود)(فعول) کے وزن پر ’’فاعل‘‘ اور ’’مفعول‘‘ دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
[91]﴿ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّؔا تَقُوۡلُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے شعیب! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔‘‘ یعنی وہ شعیبu کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ’’ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے‘‘ یہ بات محض اس لیے کہتے تھے کیونکہ انھیں شعیبu کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ ﴿ وَاِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا﴾’’اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔﴿ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ ﴾ ’’اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا‘‘ ﴿ لَرَجَمۡنٰكَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں ‘‘ یعنی ہمارے دل میں تیری کوئی قدر اور کوئی احترام نہیں ۔ ہم تجھے چھوڑ کر دراصل تیرے قبیلے کا احترام کررہے ہیں ۔
[92]﴿قَالَ﴾ حضرت شعیبu نے ان کو نرم کرنے کے لیے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِيۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمھارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے‘‘ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمھارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ ﴿ وَاتَّخَذۡتُمُوۡهُ۠ وَرَآءَؔكُمۡ ظِهۡرِيًّا﴾ ’’اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا کی نہ اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’بے شک میرا رب تمھارے عملوں کو گھیرنے والا ہے‘‘ یعنی تمھارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں ، پس وہ تمھارے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
[93]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کر کے ان کو بے بس کر دیا تو شعیبu نے ان سے کہا: ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ١ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’میں بھی کام کرتا ہوں ، عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے‘‘ یعنی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ ﴿ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ﴾ ’’اور جھوٹا کون ہے۔‘‘ یعنی یہ بھی تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا؟ ﴿ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی تم اس بات کا انتظار کرو کہ میرے ساتھ کیا ہوتا ہے اور میں انتظار کرتا ہوں کہ تم پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔
[94]﴿وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا ﴿نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دِيَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے‘‘ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی ۔
[95]﴿كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انھوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا۔ ﴿اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ﴾ ’’سنو، پھٹکار ہے مدین کے لیے‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدین کو ہلاک اور رسوا کیا ﴿ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’جیسے پھٹکار ہوئی ثمود پر‘‘ یعنی پھٹکار، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور ہلاکت میں دونوں قبیلے مشترک تھے۔ حضرت شعیبu کو، قوم کے ساتھ ان کے حسن گفتگو کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قصہ سے بہت سے فوائد اور بہت سی عبرتیں مستنبط ہوتی ہیں :(۱)کفار کو جس طرح اصول اسلام کے ذریعے سے مخاطب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ان کو عذاب دیا جاتا ہے، اسی طرح شرائع اسلام اور اس کی فروع میں بھی وہ مخاطب ہیں کیونکہ جناب شعیبu نے اپنی قوم کو توحید اور ناپ تول کے پورے کرنے کی دعوت دی تھی اور مجموعی طور پر توحید اور ناپ تول کو پورا کرنے کے حکم کی عدم تعمیل پر وعید کو مترتب کیا۔(۲)ناپ تول میں کمی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کے بارے میں ڈر ہے کہ کہیں وہ عذاب کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کا مال چوری کرنے کے مترادف ہے۔ جب ناپ تول کے ذریعے سے چوری کرنا عذاب کی وعید کا موجب ہے تو جبر اور تغلب کے ذریعے سے لوگوں کے مال چوری کرنا بدرجہ اولیٰ وعید کا موجب ہے۔(۳) عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ جو کوئی لوگوں کے مال کو کم کر کے خود اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اس کے مال میں کمی کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا۔ ناپ تول میں کمی اس کے رزق کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ بِخَيۡرٍ ﴾’’میں تمھیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں ‘‘ اس لیے اپنے کرتوتوں کے ذریعے سے اس رزق کے زوال کا باعث نہ بنو۔(۴) بندے پر واجب ہے کہ وہ اس رزق پر قناعت کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے، چنانچہ وہ حرام کو چھوڑ کر حلال پر اور حرام ذرائع اکتساب کو چھوڑ کر حلال ذرائع پر قناعت کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ﴿ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’اللہ کا عطا کیا ہوا نفع تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ حلال ذرائع اکتساب میں جو برکت اور اضافۂ رزق ہے، وہ دنیا کی حرص کی خاطر حرام اسباب کسب اختیار کرنے میں نہیں ۔ اس میں سراسر مال کا زوال اور برکت کی ضد ہے۔(۵)یہ لوازم ایمان اور اس کے آثار میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عمل کو وجود ایمان پر مترتب کیا ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عمل کا وجود نہ ہو تو ایمان ناقص یا قطعی طور پر معدوم ہے۔(۶)اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے سابقین کی شریعت میں نماز مشروع تھی، نیز یہ کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے۔ حتیٰ کہ کفار کے نزدیک بھی نماز کی افضلیت اور نماز کا تمام اعمال پر مقدم ہونا متحقق ہے۔ نیز ان کے ہاں یہ بات بھی متحقق ہے کہ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے اور نماز ایمان اور شرائع کی میزان ہے، نماز کو مسنون طریقے سے ادا کرنے سے بندۂ مومن کے احوال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز کی عدم ادائیگی سے اس کے دینی احوال میں خلل واقع ہوتا ہے۔(۷)وہ مال جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کر رکھا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس مال کا مالک بنا رکھا ہے تاہم انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کیونکہ یہ مال اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس پر فرض ہے کہ وہ اس میں سے لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حق کو قائم کرے اور ان ذرائع اکتساب کو اختیار کرنے سے باز رہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس کفار اور ان سے مشابہت رکھنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مال کے خود مالک ہیں اور وہ جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں خواہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو یا مخالف۔(۸) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داعی کی دعوت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ خود اس کام پر عمل کرنے میں سبقت کرے جس کی طرف وہ لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور جس کام سے وہ لوگوں کو روکتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس کام سے رک جائے، جیسا کہ جناب شعیبu نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ میں تمھیں جن باتوں سے روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الصف: 61؍2)’’اے مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔‘‘(۹)تمام انبیاء و مرسلین کا وظیفہ اور ان کی سنت و ملت یہ ہے کہ حسب امکان اور مقدور بھر مصالح کے حصول اور ان کی تکمیل کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور استطاعت کے مطابق مفاسد کو دور یا کم کرتے ہیں اور مصالح خاصہ کی رعایت رکھتے ہیں … اور حقیقی مصلحت وہ ہے جس سے بندوں کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے اور جس سے ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔(۱۰)جو کوئی مقدور بھر اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے کسی فعل کے نہ کرنے پر قابل ملامت اور قابل مذمت نہیں جس کے کرنے کی وہ قدرت اور استطاعت نہیں رکھتا۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے۔(۱۱) بندۂ مومن کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ اپنے رب پر بھروسہ کرے، اسی سے مدد طلب کرے اور اسی سے توفیق کا طلب گار رہے۔ جب اسے کوئی نیک توفیق حاصل ہو جائے تو اسے توفیق عطا کرنے والی ہستی کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی کا شکار نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا تَوۡفِيۡـقِيۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾(۱۲)امم سابقہ پر جو تباہی نازل ہوئی اور عذاب کے ذریعے سے ان کو جو پکڑا گیا اس میں بندوں کے لیے ترہیب ہے اور یہ نہایت مناسب بات ہے کہ وعظ و نصیحت کے دوران گزشتہ قوموں کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں مجرموں پر عذاب نازل کیا گیا… اور اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ تقویٰ کی ترغیب کے لیے اہل تقویٰ کے ان واقعات کا ذکر کیا جائے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اکرام سے نوازا۔(۱۳) گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس کے تمام گناہوں سے درگزر کر کے اسے معاف کر دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے ’’توبہ کرنے والا جب توبہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کو مغفرت اور عفو سے نواز دیا جائے اور رہا اللہ تعالیٰ کی محبت اور مودت کا واپس لوٹنا تو اللہ تعالیٰ کی محبت دوبارہ نہیں آتی‘‘… کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ ﴾’’اپنے رب سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ بے شک میرا رب بہت ہی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے بہت محبت رکھتا ہے۔‘‘(۱۴) اللہ تبارک و تعالیٰ بہت سے اسباب کے ذریعے سے اہل ایمان کی مدافعت کرتا ہے بعض اسباب کا ان کو علم ہوتا ہے اور بعض اسباب کا ان کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کے قبیلے اور اہل وطن کے ذریعے سے ان کی مدافعت کرتا ہے جیسے شعیبu کو ان کے قبیلے کے سبب سے رجم ہونے سے بچایا۔ اس قسم کے روابط کے لیے جن کے ذریعے سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور ان کی حفاظت کا حصول مقصود ہو، کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسی کوشش لازم ہے کیونکہ مقدور بھر اور حسب امکان، اصلاح مطلوب ہے۔لہٰذا اس اصول کو مدنظر رکھ کر کفار کی سلطنت میں رہنے والے مسلمان اگر اسی قسم کی کوشش کریں اور نظام حکومت کو جمہوری اصولوں پر چلانے کے لیے کام کریں جس میں افراد یا جماعتوں کے لیے ممکن ہو کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی حقوق کی حفاظت کر سکیں تو یہ اس صورت حال سے بہتر ہے جس میں مسلمان کافر ریاست کے مطیع ہوں اور ریاست ان کے دینی اور دنیاوی حقوق کے بارے میں من مانے فیصلے کرے، مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے اور کفار کی خدمت کے لیے ان کو معمولی درجے کے کارکن اور خدام بنا ڈالے، البتہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا اقتدار اور ان کی حکومت ممکن ہو تو اس حکومت کا قیام لازم ہے لیکن اگر اقتدار کا یہ مرتبہ حاصل نہ ہو سکے تو اس مرتبے کا حصول جس میں دینی اور دنیاوی مصالح کی حفاظت ہو، مقدم ہے۔ واللہ اعلم۔