اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں اوردلیل واضح کے (96) طرف فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی ، پس انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی اور نہیں تھا حکم فرعون کا کوئی بھلائی والا (97) وہ آگے آگے ہو گا اپنی قوم کے دن قیامت کے، پس جا داخل کرے گا انھیں آگ میں اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ لائے جائیں گے (98) اور پیچھے لگائے گئے وہ اس (دنیا) میں لعنت اور دن قیامت کے بھی، برا ہے وہ عطیہ جو وہ عطیہ دیے جائیں گے (99)یہ کچھ خبریں ہیں ان (تباہ شدہ) بستیوں کی، ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر، کچھ تو ان میں سے قائم ہیں اور کچھ نیست و نابود کر دی گئیں (100) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن انھوں نے (خود ہی) ظلم کیا اپنے نفسوں پر، پس نہ فائدہ دیا انھیں ان کے ان معبودوں نے جنھیں وہ پکارتے تھے سوائے اللہ کے کچھ بھی، جب آگیا حکم آپ کے رب کااور نہ زیادہ کیا انھوں نے ان کو سوائے تباہی کے (101)
[96]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو‘‘ یعنی موسیٰ بن عمران کو ﴿ بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی دعوت کی صداقت پر دلالت کرتی تھیں ، مثلاً:عصا اور ید بیضا اور دیگر معجزات، جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور دلیل واضح (کے ساتھ)‘‘ اور ایسی واضح دلیل کے ساتھ، جو سورج کی مانند عیاں تھی۔
[97]﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ﴾ ’’فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف‘‘ کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں ۔ ان اشراف نے موسیٰu کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ١ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ ﴾ ’’پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا‘‘ بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں ۔
[98] اس کی قوم نے اس کی اتباع کی اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴾ ’’وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی قیادت میں ان کو جہنم میں جا اتارے گا اور یہ بہت ہی برا مقام ہے جہاں یہ لوگ وارد ہوں گے۔‘‘
[99]﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهٖ لَعۡنَةً ﴾ ’’اور اس میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگادی گئی۔‘‘ یعنی اس دنیا میں ﴿ وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور قیامت کے دن بھی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت بھیجیں گے۔ ﴿ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ ﴾ ’’بہت ہی برا ہے جو ان کے لیے جمع کیا گیا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دنیا و آخرت کی لعنت ان کا پیچھا کرے گی۔
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے ساتھ ان کی قوموں کے واقعات بیان کرنے کے بعد اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض ہم آپ کو سناتے ہیں ‘‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے اپنی قوم کو ڈرائیں اور یہ چیز آپ کی رسالت پر دلیل اور اہل ایمان کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔ ﴿ مِنۡهَا قَآىِٕمٌ ﴾ ’’ان میں سے بعض تو باقی ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی بستیوں کی بعض نشانیاں اب بھی باقی کھڑی ہیں یعنی تلف نہیں ہوئیں ۔ جو ان قوموں کی تباہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ وَ﴾ اور ان میں سے بعض نشانیاں ﴿ حَصِيۡدٌ ﴾ ’’ان کی جڑ کٹ گئی‘‘ یعنی ان کے مسکن منہدم ہوگئے، ان کے گھر نیست و نابود ہوگئے اور ان کے نشانات تک باقی نہ رہے۔
[101]﴿وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ﴾ ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔‘‘ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ﴾ ’’پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں ، جب آپ کے رب کا حکم آیا‘‘ اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ﴾ ’’اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔‘‘ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔