اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تو اختلاف کیا گیا اس میں اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کےاور یقینا وہ ایسے شک میں ہیں اس سے (جو انھیں ) بے چین کرنے والا ہے(110) اور بے شک ہر ایک کو البتہ ضرور پوری پوری دے گاآپ کا رب (جزاء) ان کے عملوں کی، بے شک وہ ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں خبردار ہے (111) پس ثابت رہیں آپ جس طرح حکم کیے گئے ہیں آپ اور وہ لوگ بھی جنھوں نے توبہ کی آپ کے ساتھ اور نہ سرکشی کرو تم، بے شک وہ (اللہ) اسے جو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(112) اور نہ جھکو تم طرف ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، پس (ورنہ) چھوئے گی تمھیں آگ اور نہیں ہو گا تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست، پھر نہ مدد کیے جاؤ گے تم (113)
[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے جناب موسیٰu کو کتاب عطا کی، جس کو تورات کہا جاتا ہے جو اس کے اوامر و نواہی پر ان کے اتفاق و اجتماع کی موجب ہے۔ مگر اس کے باوجود تورات سے نسبت رکھنے والوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا جس نے ان کے عقائد اور ان کی دینی جمعیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ﴿ وَلَوۡ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی۔‘‘ یعنی ان کے معاملہ کو موخر کرنے اور ان کو عذاب میں عجلت نہ کرنے کے بارے میں ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ یعنی ظالم پر عذاب نازل ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو قیامت تک کے لیے موخر کر دے اور یہ لوگ شک و شبہ ہی میں مبتلا رہیں ۔ جب ان کا اپنی کتاب کے ساتھ یہ حال ہے تو قرآن جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یہود کے ایک گروہ کا یہ رویہ تعجب خیز نہیں ہے کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے بارے میں شک و ریب میں مبتلا ہیں ۔
[111]﴿ وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’اور جتنے لوگ ہیں ، سب کو پورا دے گا آپ کا رب ان کے اعمال (کا بدلہ)‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان ضرور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو وہی سزا و جزا دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ اس سے جو عمل یہ کرتے ہیں ۔‘‘ اچھے یا برے۔ ﴿ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’باخبر ہے‘‘ ان کے اعمال میں سے کوئی چھوٹی یا بڑی چیز اس پر مخفی نہیں ۔
[112] اللہ تعالیٰ نے یہود کی عدم استقامت کا ذکر کرنے کے بعد، جو ان کے اختلاف و افتراق کا باعث تھی، اپنے نبی محمد مصطفیﷺ اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن رہیں جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہے اور اس شریعت کو لائحہ عمل بنائیں جو ان کے لیے مشروع کی گئی ہے اور ان اعتقادات صحیحہ کو اپنا عقیدہ بنائیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کیے ہیں ۔ اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں ، بائیں ٹیڑھی راہوں پر نہ چلیں اور دائمی طور پر اسی عقیدے اور اسی شریعت پر عمل پیرا رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ، یعنی استقامت کی ان حدود سے تجاوز نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’وہ تمھارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ پر تمھارے اعمال میں سے کچھ بھی مخفی نہیں اور وہ تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات کریمہ میں استقامت کو مسلک بنانے کی ترغیب اور اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے پر ترہیب دی گئی ہے۔
[113] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف میلان رکھنے سے منع فرمایا جنھوں نے استقامت کو چھوڑ دیا۔﴿وَلَا تَرۡؔكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جو ظالم ہیں ‘‘ کیونکہ اگر تم ان کی طرف مائل ہوئے، ان کے ظلم و تعدی پر ان کی موافقت کی یا ان کے ظلم پر راضی ہوئے ﴿فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ﴾ ’’تو تمھیں جہنم کی آگ آ لپٹے گی۔‘‘ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارے کوئی مددگار نہیں ‘‘ جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں ۔ اس آیت کریمہ میں ظالم کی طرف میلان رکھنے سے روکا گیا ہے۔ یہاں (رکون) سے مراد ظالم کے ظلم کی طرف میلان، اس کے ظلم کی موافقت اور اس کے ظلم پر راضی ہونا ہے۔ جب ظالموں کی طرف میلان رکھنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی شدید وعید ہے تو خود ظالموں کا کیا حال ہوگا… ہم اللہ تعالیٰ سے ظلم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔