پس کیوں نہ ہوئے ان امتوں میں سے جو تم سے پہلے تھیں کچھ لوگ عقل و بصیرت والے کہ وہ روکتے فساد (کرنے) سے زمین میں مگر تھوڑے ہی ان لوگوں میں سے جنھیں نجات دی ہم نے ان میں سے اور پیچھے لگے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، ان چیزوں کے کہ آسودگی دیے گئے تھے وہ (ظالم) ان چیزوں میں اور تھے وہ مجرم (116)
[116]جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، نیز یہ کہ ان میں سے اکثر وہ لوگ تھے جنھوں نے کتب سماویہ کے ماننے والوں سے انحراف کیا، حتیٰ کہ ان لوگوں نے بھی جوکتب الٰہیہ کو ماننے والے تھے اور یہ چیز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ گزشتہ ادیان انعدام و اضمحلال کا شکار ہوگئے تو اب ذکر فرمایا کہ گزشتہ قوموں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہتے، فساد اور ہلاکت سے روکتے رہتے تو ان سے کچھ فائدہ حاصل ہوتا جب تک ان کے ادیان باقی رہتے۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی قلیل تھے۔اس سارے معاملے کی غرض و غایت یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے جو تھوڑے لوگوں نے نجات پائی تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کی اتباع اور اقامت دین کی وجہ سے نجات پائی، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حجت بن گئے جس کو اس نے ان کے ہاتھوں پر جاری کیا تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور زندہ رہے تو دلیل ہی سے زندہ رہے۔﴿ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا‘‘ یعنی وہ جن نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع ہو رہے تھے انھی کے پیچھے پڑے رہے اور ان چیزوں کے بدلے انھوں نے کچھ اور نہیں چاہا۔ ﴿ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تھے وہ گناہ گار‘‘ یعنی ان نعمتوں اور آسائشوں کے پیچھے پڑ کر انھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا، لہٰذا وہ عتاب کے مستحق ٹھہرے اور عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔اس آیت کریمہ میں اس امت کو ترغیب دی گئی ہے کہ ان کے اندر ایسے ہوش مند مصلحین ہونے چاہئیں جو ان امور کی اصلاح کریں جن کو لوگوں نے فاسد کر دیا ہے، جو اللہ کے دین کو قائم کرنے والے ہوں ، بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلاتے رہیں ۔ اگر اس راہ میں تکلیفیں آئیں تو اس پر صبر کرتے رہیں اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں لوگوں کو بصیرت کی روشنی دکھاتے رہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا بلند ترین حال ہے جس کی طرف رغبت کرنے والے راغب ہوتے ہیں اور اسی حال کو اختیار کرنے والا مرتبۂ امامت پر فائز ہوتا ہے کیونکہ اس کا عمل خالص رب العالمین کے لیے ہے۔