Tafsir As-Saadi
12:1 - 12:3

الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی(1) بلاشبہ ہم نے نازل کیا ہے اس کو قرآن عربی (زبان میں ) تا کہ تم سمجھو (2) ہم بیان کرتے ہیں آپ پر بہترین بیان بذریعہ اپنے وحی کرنے کے آپ کی طرف یہ قرآن، جبکہ یقینا تھے آپ پہلے اس سے البتہ بے خبروں میں سے (3)

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں ، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں ۔
[2] اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے۔ (المُبِین) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح و تبیین ہے ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ ’’تاکہ تم سمجھو‘‘ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لو گے اور تمھارے دل اس کی معرفت سے لبریز ہو جائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾ یعنی تمھارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمھاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنیٰ حال سے اعلیٰ و اکمل احوال میں منتقل ہو جاؤ گے۔
[3]﴿نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ ﴾ ’’ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ ﴿ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن‘‘ یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا اس سے پہلے آپ بے خبروں میں سے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں ۔چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسفu، ان کے والد یعقوبu اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسولﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ نہایت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں ۔ جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں … وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کی برائی اس حد تک پہنچتی ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورۂ مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں … لبریز ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہﷺ سے منقول نہیں ہیں ۔