Tafsir As-Saadi
12:4 - 12:6

(یاد کرو!) جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے، اے ابا جان! بے شک میں نے دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سورج اورچاند کو، دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے(4) اس (یعقوب) نے کہا، اے میرے عزیز بیٹے! مت بیان کرنا خواب اپنا اوپر اپنے بھائیوں کے، پس وہ تدبیر کریں گے واسطے تیرے کوئی تدبیر (بری)، بے شک شیطان ہے واسطے انسان کے دشمن ظاہر(5) اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھے تیرا رب اور سکھائے گا تجھے حقیقت (تعبیر) باتوں (خواب) کی اور پوری کرے گا اپنی نعمت اوپر تیرے اور اوپر آل ِیعقوب کے، جس طرح اس نے پورا کیا تھا اسے اوپر تیرے باپ دادا کے پہلے اس سے (اوپر) ابراہیم اور اسحٰق کے، بے شک تیرا رب خوب جاننے والا ، حکمت والاہے(6)

[4]﴿ اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ﴾ ’’جب یوسف (u) نے کہا۔‘‘ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَؔ كَوۡؔكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِيۡ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ خواب یوسفu کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں ۔یعقوبu نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسفu کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں ۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسفu کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسفu کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسفu کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسفu کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔
[5] جب یعقوبu نے حضرت یوسفu کے خواب کی تعبیر مکمل کر لی تو حضرت یعقوبu نے حضرت یوسفu سے فرمایا: ﴿ يٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰۤى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَكَ كَيۡدًا﴾ ’’اے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب‘‘ یعنی تمھارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمھارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘ دہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسفu نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انھوں نے اپنے بھائیوں کو اس خواب کے بارے میں کچھ نہ بتایا بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔
[6]﴿وَؔكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ ﴾ ’’اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب‘‘ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ ﴿وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا‘‘ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ ﴿ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ ﴾ ’’اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔‘‘ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا، یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ ﴿ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ﴾ ’’جیسے اس نے پورا کیا اس نعمت کو اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم اور جناب اسحٰقi کو عظیم اور بے پایاں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم تمام اشیاء اور بندوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اچھے برے خیالات کو محیط ہے۔ پس وہ سب کو اپنی حمد و حکمت کے مطابق عطا کرتا ہے۔ وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔