پھر جب وہ لے گئے اسےاور عزم کرلیا انھوں نے یہ کہ ڈال دیں وہ اسے تہ میں کنویں کی اور وحی کی ہم نے اس کی طرف کہ تو ضرور خبر دے گا انھیں ان کے اس کام کی جبکہ وہ نہیں سمجھتے ہوں گے (15) اور آئے وہ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے (16)انھوں نے کہا، ابا جان! بے شک گئے تھے ہم مقابلہ کرتے تھے ہم دوڑ کا اور چھوڑ دیا تھا ہم نے یوسف کو نزدیک اپنے سامان کے، پس کھا گیا اسے بھیڑیااور نہیں تو یقین کرنے والا ہماری بات کا اگر چہ ہوں ہم سچے (17) اور (لگا) لائے وہ اوپر اس کی قمیص کے خون جھوٹا، یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا دی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، سو صبر ہی بہتر ہےاور اللہ (اسی سے) مدد طلب کی جاتی ہے اس پر جو تم بیان کرتے ہو (18)
[15] یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسفu کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسفu کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسفu کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰؔذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے‘‘ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسفu کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔
[16]﴿ وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؔ ﴾ ’’اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے‘‘ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔
[17] وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے: ﴿يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ﴾ ’’اباجان! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔‘‘ ابا جان! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے۔ یہ ’’مقابلہ‘‘ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ ﴿ وَتَرَؔكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا ﴾ ’’اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔‘‘ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسفu کے آرام کی خاطر اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا ﴿ فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ﴾ ’’تو اسے بھیڑیا کھاگیا۔‘‘ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا ﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡؔ كُنَّا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچے بھی ہوں ، باور نہیں کریں گے۔‘‘ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کا دل یوسفu کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔
[18]﴿ وَ﴾ اور انھوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا ﴿ جَآءُوۡ عَلٰى قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ﴾ ’’وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے‘‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ یوسفu کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑیے نے یوسفu کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا﴾ ’’انھوں (یعقوب) نے کہا بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے نفس نے میرے اور یوسفu کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے ایک برے کام کو تمھارے سامنے مزین کر دیا کیونکہ قرائن و احوال اور یوسفu کا خواب، یعقوبu کے اس قول پر دلالت کرتے تھے۔ ﴿ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ١ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَؔ﴾ ’’اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔‘‘ یعنی رہا میں تو میرا وظیفہ… جس کو قائم رکھنا چاہتا ہوں … یہ ہے کہ میں اس آزمائش پر صبر جمیل سے کام لوں گا۔ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہیں کروں گا۔ میں اپنے اس وظیفے پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ میں اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جناب یعقوبu نے اپنے دل میں اس امر کا وعدہ کیا اور اپنے خالق کے پاس اپنے اس صدمے کی شکایت ان الفاظ میں کی ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ وَحُزۡنِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾(یوسف: 12؍86) ’’میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں ۔‘‘ کیونکہ خالق کے پاس شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں اور نبی جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔