Tafsir As-Saadi
12:36 - 12:41

اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)

[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔
[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں کو بتاؤں گا ﴿ مِمَّا عَلَّمَنِيۡ رَبِّيۡ﴾ ’’یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔‘‘ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ احسان یہ ہے ﴿اِنِّيۡ تَرَؔكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَؔ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’میں نے اس قوم کا دین چھوڑا جو اللہ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ آخرت کے منکر ہیں ‘‘ (ترک) کا اطلاق جس طرح اس داخل ہونے والے پر ہوتا ہے جو داخل ہونے کے بعد وہاں سے منتقل ہو جاتا ہے اسی طرح اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو اصلاً اس میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس سے پہلے یوسفu ملت ابراہیمu کے علاوہ کسی اور ملت پر تھے۔
[38]﴿ وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ﴾ ’’اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم، اسحٰق اور یعقوب کی‘‘ اس کے بعد یوسفu نے ملت ابراہیمu کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِكَ بِاللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں ‘‘ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لیے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى النَّاسِ ﴾ ’’یہ ہم پر اللہ کی بہترین نوازش اور اس کا فضل و احسان ہے۔‘‘ یہ احسان ان لوگوں پر بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرح راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے کیونکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی اس نوازش اور عنایت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ وہ ان کو اسلام اور دین قویم سے نواز دے۔پس جو کوئی اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے وہ سب سے بڑی نعمت اور جلیل ترین فضیلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے‘‘ اسی لیے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی نوازشیں اور احسانات آتے ہیں مگر وہ انھیں قبول نہیں کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کو قائم کرتے ہیں ۔یہ بات مخفی نہیں کہ اس میں اس راستے کی اتباع کی ترغیب ہے جس پر خود جناب یوسفu گامزن تھے۔ یوسفu نے چونکہ ان نوجوانوں کے بارے میں یہ چیز محسوس کر لی تھی کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ یوسفu ایک اچھے اور تعلیم دینے والے شخص ہیں … اس لیے جناب یوسفu نے ان دونوں کو بتایا کہ میری یہ حالت، جس پر میں اس وقت ہوں ، یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں شرک سے بچ گیا اور میں نے اپنے آباء و اجداد کی ملت کی اتباع کی اور میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تم مجھے دیکھ رہے ہو تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم بھی اس راستے پر چلو جس پر میں چل رہا ہوں ۔
[39] پھر یوسفu نے نہایت صراحت کے ساتھ ان دونوں کو توحید کی دعوت دی۔ فرمایا: ﴿ يٰصَاحِبَيِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ۠ؔ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’اے قید کے ساتھیو! کیا متفرق معبود بہتر ہیں یا ایک غالب اللہ‘‘ یعنی عاجز اور کمزور معبود جو کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتے ہیں نہ محروم کر سکتے ہیں یہ معبود شجر و حجر، فرشتوں ، مردہ ہستیوں اور دیگر مختلف قسم کے معبودوں میں بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں جن کو ان مشرکین نے معبود بنا رکھا ہے کیا یہ معبودان اچھے ہیں ﴿ اَمِ اللّٰهُ ﴾ ’’یااللہ‘‘ جو صفات کمال کا مالک ہے ﴿ الۡوَاحِدُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے۔ ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ الۡقَهَّارُ ﴾ اس کے قہر اور تسلط کے سامنے تمام کائنات سرافگندہ ہے وہ جو چیز چاہتا ہے ہو جاتی ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتی۔ ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا ﴾(ھود: 11؍56) ’’جو بھی چلنے پھرنے والا جاندار ہے اس کی پیشانی اس کے قبضۂ اختیار میں ہے۔‘‘
[40] یہ بات معلوم ہے کہ جس ہستی کی یہ شان اور یہ وصف ہو وہ ان متفرق معبودوں سے بہتر ہے جو محض گھڑے ہوئے نام ہیں جو کسی کمال اور فعل سے عاری ہیں ۔بنابریں یوسفu نے فرمایا: ﴿ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو، وہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ‘‘ یعنی تم نے ان کو معبود کا نام دے دیا ہے حالانکہ یہ کچھ بھی نہیں اور نہ ان میں الوہیت کی صفات میں سے کوئی صفت ہے۔ ﴿ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نازل نہیں کی‘‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کی ممانعت نازل کر کے ان کا باطل ہونا واضح کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان معبودان باطل کے حق میں کوئی دلیل نازل نہیں کی اس لیے کوئی طریقہ، کوئی وسیلہ اور کوئی دلیل ایسی نہیں جس سے ان کا استحقاق عبودیت ثابت ہوتا ہو۔﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ ’’اللہ اکیلے کے سوا کسی کا حکم نہیں۔‘‘ وہی ہے جو حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے، وہی ہے جو تمام شرائع اور احکام کو مشروع کرتا ہے اور وہی ہے ﴿ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ﴾ ’’اس نے حکم دیا کہ عبادت صرف اسی کی کرو، یہی سیدھا مضبوط دین ہے‘‘ یعنی یہی صراط مستقیم ہے جو ہر بھلائی کی منزل تک پہنچاتا ہے، دیگر تمام ادیان سیدھی راہ سے محروم ہیں بلکہ یہ ٹیڑھے راستے ہیں اور ہر برائی تک پہنچاتے ہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ مگر اکثر لوگ اشیاء کے حقائق کو نہیں جانتے۔ ورنہ اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور اس کے ساتھ شرک میں فرق سب سے زیادہ واضح اور نمایاں چیز ہے۔ مگر اکثر لوگ علم سے محروم ہونے کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
[41] پس یوسفu نے قید کے دونوں ساتھیوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور اخلاص کی طرف دعوت دی تو یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں ساتھیوں نے یوسفu کی دعوت قبول اور آپ کی اطاعت اختیار کر لی ہو اور اللہ کی نعمت کا ان پر اتمام ہو گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے شرک پر جمے رہے ہوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہو، پھر یوسفu نے ان دونوں کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کے مطابق ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی۔ فرمایا:﴿يٰصَاحِبَيِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا ﴾ ’’میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک ۔‘‘ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نکال رہا ہے۔ اس کے بارے میں یوسفu نے بتایا کہ وہ قید سے آزاد ہوگا ﴿فَيَسۡقِيۡ رَبَّهٗ خَمۡرًا﴾ ’’پس وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔‘‘ یعنی وہ اپنے آقا کو جس کی وہ خدمت کیا کرتا تھا شراب پلائے گا اور یہ تعبیر اس کے قید سے نکلنے کو مستلزم تھی۔ ﴿وَاَمَّا الۡاٰخَرُ ﴾ ’’رہا دوسرا قیدی‘‘ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے روٹیاں کھا رہے ہیں ﴿فَيُصۡلَبُ فَتَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡ رَّاۡسِهٖ﴾ ’’وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھاجائیں گے۔‘‘ یوسفu نے روٹیاں سر پر اٹھانے کی جن کو پرندے کھا رہے ہوں ، یہ تعبیر بتلائی کہ اس کا سر قلم کیا جائے گا۔ اس کے سر کا گوشت، چربی اور مغز جدا کیے جائیں گے، اس کو دفن نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے پرندوں سے بچایا جائے گا بلکہ اسے ایسی جگہ صلیب پر لٹکایا جائے گا جہاں پرندے اس کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ جناب یوسفu نے آگاہ فرمایا کہ خواب کی یہ تعبیر جو انھوں نے ان کو بتائی ہے، پوری ہو کر رہے گی۔ فرمایا ﴿قُضِيَ الۡاَمۡرُ الَّذِيۡ فِيۡهِ تَسۡتَفۡتِيٰنِ﴾ ’’جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے، اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔‘‘ یعنی جس معاملے کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے اس کا فیصلہ ہو چکا۔