Tafsir As-Saadi
12:50 - 12:57

اور کہا بادشاہ نے، لے آؤ تم میرے پاس اس کو، پھر جب آیا اس کے پاس قاصد تو کہا یوسف نے، لوٹ جا طرف اپنے مالک اور پوچھ اس سے کہ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنھوں نے کاٹ لیے تھے ہاتھ اپنے؟ بے شک میرا رب ان کے مکر کو خوب جاننے والا ہے (50) کہا بادشاہ نے، کیا حال ہے تمھارا جب پھسلایا (ورغلایا) تھا تم نے یوسف کو اس کے نفس سے؟ انھوں نے کہا حاشا للہ، نہیں جانی ہم نے اس کے ذمے کوئی برائی، کہا عزیز (مصر) کی بیوی نے، اب واضح ہو گیا ہے حق ، میں نے ہی ورغلایا تھا اسے اس کے نفس سےاور بلاشبہ وہ البتہ سچوں میں سے ہے(51) یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے کہ بے شک میں نے نہیں خیانت کی تھی اس کی پیٹھ پیچھےاور یہ کہ بے شک اللہ نہیں چلنے دیتا مکر خیانت کرنے والوں کا(52) اور نہیں بری کرتا میں اپنے نفس کو، بے شک نفس تو یقینا بہت حکم دینے والا ہے برائی ہی کا مگر جس پررحم کرے میرا رب بے شک میرا رب بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے (53) اور کہا بادشاہ نے، لاؤ تم میرے پاس اس کو ، خالص کروں گا میں اسے واسطے اپنی ذات کے، پھر جب بادشاہ نے بات چیت کی یوسف سے تو کہا، بے شک تو آج ہمارے ہاں مرتبے والا، امین ہے (54) یوسف نے کہا، بنا دے مجھے خزانوں (پیداوار) پر زمین کے (نگران)، بے شک میں نہایت نگہبانی کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں (55) اور اسی طرح اقتدار دیا ہم نے یوسف کو زمین (مصر) میں ، جگہ پکڑتا تھا اس (ملک) میں جہاں چاہتا، ہم پہنچاتے ہیں رحمت اپنی جسے چاہیں اور نہیں ضائع کرتے ہم اجر نیکی کرنے والوں کا (56) اور یقینا اجر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور رہے وہ ڈرتے (57)

[50] جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انھیں یوسفu کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انھیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بے حد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَقَالَ الۡمَلِكُ﴾ ’’بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے) کہا‘‘ ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘یعنی یوسفu کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ ﴾ ’’پس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسفu کے پاس آیا‘‘ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے کہا تو انھوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کر دیا جب تک کہ ان کی براء ت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہو جاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ اس وقت انھوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا: ﴿ ارۡجِـعۡ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ ’’بادشاہ کے پاس واپس جا‘‘ ﴿فَسۡـَٔؔلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِيۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ﴾ ’’بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔‘‘
[51] بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا ﴿مَا خَطۡبُكُنَّ﴾ ’’تمھارا کیا معاملہ ہے؟‘‘ ﴿ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا؟‘‘ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی؟ ان عورتوں نے یوسفu کی براء ت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں :﴿ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡٓءٍ﴾ ’’حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دارومدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ ﴿ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ﴾ ’’عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہو گیا ہے‘‘ یعنی حق واضح ہوگیا ہے جبکہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوس کرنے کا باعث بنا۔ ﴿ اَنَا رَاوَدۡتُّهٗ عَنۡ نَّفۡسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’میں نے ہی اس کو اس کے جی سے پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقینا سچا ہے‘‘ یعنی یوسفu اپنے اقوال اور اپنی براء ت کے دعوے میں سچے ہیں ۔
[52]﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ اقرار جس میں ، میں نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے ہی یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ﴿ لِيَعۡلَمَ اَنِّيۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد عورت کا خاوند ہے، یعنی یہ اقرار میں نے اس لیے کیا تاکہ میرا خاوند جان لے کہ میں نے یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی مگر میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ میں نے مجرد اس کو پھسلانے کی کوشش کی مگر میں نے عزیز مصر کے بستر کو خراب نہیں کیا۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یوسفu ہوں ، یعنی تاکہ یوسفu جان لے کہ وہ سچا ہے اور میں نے ہی اس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جب وہ میرے پاس موجود نہیں تھا تو میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ كَيۡدَ الۡخَآىِٕنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور یہ کہ اللہ دغابازوں کا فریب نہیں چلنے دیتا‘‘ یہ لازمی امر ہے کہ ہر خائن کی خیانت اور اس کی سازش کا وبال آخر کار اسی کی طرف پلٹے گا اور حقیقت حال ضرور واضح ہوگی۔
[53] چونکہ اس کلام میں عورت کے اپنے لیے تزکیہ کے دعوے کا شائبہ پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ بھی پایا جاتا ہے کہ یوسفu کے معاملے میں اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اس لیے عورت نے استدراک کے طور پر کہا: ﴿وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتی۔‘‘ یعنی میں نے یوسف کو پھسلانے، اس کے ساتھ برائی کے ارادے اور اس کی شدید حرص اور اس کے بارے میں سازش کرنے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتی۔ ﴿اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ ﴾ ’’کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔‘‘ یعنی نفس انسان کو بہت کثرت سے برائی، یعنی بے حیائی اور دیگر تمام گناہوں کا حکم دیتا ہے۔ نفس شیطان کی سواری ہے اور شیطان نفس کے راستے سے انسان میں داخل ہوتا ہے۔ ﴿اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيۡ﴾ ’’سوائے اس شخص کے جس پر میرا رب رحم کر دے‘‘ اور اسے اس کے نفس امارہ سے نجات دے دے اور اس طرح اس کا نفس امارہ نفس مطمئنہ میں بدل جائے۔ ہلاکت کے داعی کی نافرمانی کر کے ہدایت کے داعی کی آواز پر لبیک کہے۔ اس میں نفس کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ کا اپنے بندے پر بے انتہا فضل و کرم اور اس کی بے پایاں رحمت ہے۔ ﴿اِنَّ رَبِّيۡ غَفُوۡرٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا۔‘‘ جب کوئی گناہ اور معاصی کے ارتکاب کی جرأت کرنے کے بعد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر کے اور اسے نیک اعمال کی توفیق عطا کر کے اس پر رحم کرتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں قرین صواب یہی ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے یوسفu کا نہیں کیونکہ یہ بات عورت کے کلام کے سیاق میں آئی ہے اور یوسفu تو اس وقت قید میں تھے۔
[54] جب بادشاہ اور لوگوں کے پاس یوسفu کی کامل براء ت متحقق ہوگئی تو بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔‘‘ یعنی میں اس کو مقربین خاص میں شامل کر لوں گا اسے میرے پاس نہایت عزت و احترام سے لے کر آؤ۔ ﴿فَلَمَّا كَلَّمَهٗ ﴾ ’’پس جب اس نے ان سے گفتگو کی۔‘‘ یعنی جب بادشاہ نے یوسف، سے گفتگو کی تو اسے ان کی باتیں اچھی لگیں اور اس کے ہاں ان کی وقعت اور زیادہ ہوگئی۔ اس نے یوسفu سے کہا:﴿ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا ﴾ ’’بے شک آپ آج ہمارے ہاں ‘‘ ﴿ مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ہمارے ہاں بلند مرتبہ کے مالک اور ہمارے رازوں کے امین ہیں ۔
[55]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ ﴿ اجۡعَلۡنِيۡ عَلٰى خَزَآىِٕنِ الۡاَرۡضِ﴾ ’’مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔‘‘ یعنی مجھے زمین کی پیداوار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کر دیں ﴿ اِنِّيۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بے محل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کر سکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں ۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کر سکتا ہوں ۔ یوسفu کی طرف سے اس عہدے کا مطالبہ، عہدے کی حرص کی وجہ سے نہ تھا بلکہ نفع عام میں رغبت کی وجہ سے تھا۔ یوسفu اپنے بارے میں اپنی کفایت اور حفظ و امانت کے متعلق جو کچھ جانتے تھے وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ بنابریں یوسفu نے بادشاہ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کر دے، چنانچہ بادشاہ نے انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کا والی اور منتظم مقرر کر دیا۔
[57,56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی ان مذکورہ اسباب اور مقدمات کے ذریعے سے ﴿ مَكَّـنَّا لِيُوۡسُفَ فِي الۡاَرۡضِ١ۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُ﴾ ’’ہم نے یوسف کو جگہ دی اس ملک میں ، وہ اس میں جہاں چاہتے، جگہ پکڑتے‘‘ وہ نہایت آسودہ زندگی، بے شمار نعمتوں اور بے پناہ جاہ و جلال میں رہنے لگے۔ ﴿ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾’’ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں ، پہنچا دیتے ہیں ‘‘ یوسفu پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو اس نے ان کے لیے مقدر کر رکھی تھی جو صرف دنیاوی نعمتوں پر ہی مشتمل نہ تھی۔﴿ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتے‘‘ اور یوسفu کا شمار تو سادات محسنین میں ہوتا ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ ﴾ ’’آخرت کا اجر (دنیا کے اجر سے) بہتر ہے۔‘‘ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے‘‘ یعنی جن لوگوں میں تقویٰ اور ایمان جمع ہے۔ پس تقویٰ کے ذریعے سے حرام امور، یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو ترک کیا جاتا ہے اور ایمان کامل کے ذریعے سے ان امور میں تصدیق قلب حاصل ہوتی ہے جن امور کی تصدیق کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فرض و مستحب، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، تصدیق قلب کی پیروی کرتے ہیں ۔

جب یوسفu زمین کے محاصل کے ذخیرہ کے منتظم بن گئے تو انھوں نے بہترین طریقے سے ان کا انتظام کیا۔ انھوں نے شادابی کے سالوں میں مصر کی تمام قابل کاشت زمین میں غلہ کاشت کر دیا اور اس غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے مکانات بنوائے۔ خراج اور لگان میں بہت سا غلہ جمع کیا، اس کی حفاظت کی اور اس کا بہترین انتظام کیا۔ جب قحط سالی شروع ہوئی اور قحط تمام علاقوں میں پھیل گیا حتیٰ کہ فلسطین بھی قحط کی لپیٹ میں آگیا جہاں یعقوب اور ان کے بیٹے رہتے تھے تو حضرت یعقوبu نے اپنے بیٹوں کو اناج کے لیے مصر بھیجا۔