لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)
[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔
[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔
[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔
[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔
[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں ! بے شک ہم گناہ گار تھے‘‘ کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی بنا پر ہم خطا کار ہیں ۔
[98]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا: ﴿ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں ضرور تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمھیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمھیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کر دیا تاکہ استغفار کامل ترین اور قبولیت کے قریب ترین ہو۔