Tafsir As-Saadi
12:103 - 12:107

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔
[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔
[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘
[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔
[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔