Tafsir As-Saadi
13:14 - 13:14

اسی کے لیے ہے پکارنا سچا اور جنھیں وہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے، نہیں جواب دیتے وہ ان کو کچھ بھی مگر مانند (اس شخص کے جو) پھیلانے والا ہے دونوں ہتھیلیاں اپنی، پانی کی طرف تاکہ پہنچے وہ( پانی) اس شخص کے منہ میں حالانکہ نہیں ہے وہ پہنچنے والا اس (کے منہ) تک اور نہیں ہے پکارنا کافروں کا مگر گمراہی میں (14)

[14]﴿ لَهٗ دَعۡوَةُ الۡحَقِّ﴾’’سود مند پکارنا تو اسی کا ہے۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے دعوت حق ہے۔ دعوت حق سے سے مراد، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو صرف اسی کے لیے خالص کرنا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو پکارا جائے، اس سے ڈرا جائے، اس پر امیدیں باندھی جائیں ، اس سے محبت کی جائے، اس کی طرف رغبت رکھی جائے، اس سے خوف کھایا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی کی الوہیت حق ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو، جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے، پکارتے ہیں ﴿ لَا يَسۡتَجِيۡبُوۡنَ۠ لَهُمۡ بِشَيۡءٍ ﴾ ’’وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ یعنی یہ خود ساختہ معبود ان کو تھوڑا یا بہت کوئی جواب نہیں دے سکتے جو ان کو پکارتے اور عبادت کرتے ہیں خواہ اس پکار کا تعلق امور دنیا سے ہو یا آخرت سے ﴿ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيۡهِ اِلَى الۡمَآءِ ﴾ ’’مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف‘‘ یعنی وہ شخص جس کے ہاتھ دور ہونے کی بنا پر پانی تک پہنچ نہیں سکتے ﴿ لِيَبۡلُغَ ﴾ ’’کہ آپہنچے وہ پانی‘‘ یعنی اپنے ہاتھوں کو پانی کی طرف پھیلانے کی وجہ سے ﴿ فَاهُ ﴾ ’’اس کے منہ تک‘‘ کیونکہ وہ پیاسا ہے اور شدت پیاس کی وجہ سے اپنا ہاتھ پانی کی طرف بڑھاتا ہے مگر وہ پانی اس تک پہنچ نہیں پاتا۔ اسی طرح کفار جو اللہ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کو پکارتے ہیں ، یہ معبود ان کو کوئی جواب دے سکتے ہیں نہ ان کی حاجت کے شدید ترین اوقات میں ان کو کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ خود اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ان کو پکارنے والے محتاج ہیں ۔ وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر کسی چیز کے مالک نہیں نہ وہ ان میں شریک ہیں اور نہ ان میں کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ ﴿ وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’اور کافروں کی ساری پکار گمراہی میں ہے‘‘ کیونکہ جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، باطل ہیں ۔ پس ان کی عبادت کرنا اور ان کو پکارنا سب باطل ٹھہرا، مقاصد کے بطلان کے ساتھ وسائل بھی باطل ہو جاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی واضح حقیقی بادشاہ ہے، اس لیے اس کی عبادت حق ہے اور عبادت گزار کو دنیا و آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔غیر اللہ کو پکارنے والے کفار کی پکار کو اس شخص سے تشبیہ دینا جو پانی کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے… ایک بہترین تشبیہ ہے کیونکہ یہ ایک امر محال سے تشبیہ ہے جس طرح یہ امر محال ہے اس لیے مشبہ بہ بھی محال ہے۔ کسی چیز کی نفی کے لیے اس کو امر محال پر معلق ٹھہرانا، نفی کا بلیغ ترین پیرا یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ حَتّٰى يَـلِجَ الۡجَمَلُ فِيۡ سَمِّ الۡؔخِيَاطِ﴾(الاعراف: 7؍40) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ تکبر سے پیش آئے ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ ان کا جنت میں داخل ہونا اتنا ہی محال ہو گا جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا۔‘‘