Tafsir As-Saadi
13:19 - 13:24

کیا پس وہ شخص جو جانتا ہے کہ یقینا جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے، مانند اس شخص کے (ہو سکتا ہے) جو اندھا ہے؟ یقینا نصیحت حاصل کرتے ہیں عقل والے ہی (19) وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں عہد اللہ کا اور نہیں توڑتے وہ پختہ عہد کو (20) اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت کہ ملایا جائے (اسے)اور وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سےاور ڈرتے ہیں وہ سخت حساب سے (21) اور وہ لوگ کہ جنھوں نے صبر کیاواسطے تلاش کرنے کے رضا مندی اپنے رب کی اور انھوں نے قائم کی نماز اور خرچ کیا اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر اور وہ دور کرتے ہیں ساتھ اچھائی کے برائی کو، یہی لوگ ہیں واسطے ان کے (بہتر) انجام ہے آخرت کا (22) باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، وہ داخل ہوں گے ان میں اور وہ بھی جو نیک ہیں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سےاور فرشتے داخل ہوں گے اوپر ان کے (جنت کے) ہر دروازے سے (23)(اورکہیں گے) سلام ہو تم پر بوجہ اس کے کہ صبر کیا تم نے، سو بہت ہی اچھا انجام ہے آخرت کا (24)

[20,19] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے‘‘ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰى ﴾ ’’برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے‘‘ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں ۔اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں ‘‘ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَ ﴾ ’’وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔‘‘ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں ۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
[21]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا‘‘ یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں ، اپنے دوستوں ، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
[22]﴿ وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا﴾ ’’اور جو صبر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ ﴾ صرف ’’اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو‘‘ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، ﴿ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً:زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں ۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّؔيِّئَةَ ﴾ ’’اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں ‘‘ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں ، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں ، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِ﴾ ’’انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔‘‘
[24,23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُ عَدۡنٍ ﴾ ’’باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے‘‘ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾ ’’وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ ﴾ ’’اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے‘‘ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَا صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’تمھارے صبر کے سبب سے‘‘ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر‘‘ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔