اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیتوں (معجزوں ) کے یہ کہ نکال تو اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور یاد دلا انھیں احسانات اللہ کے، بے شک ان میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر شاکر کے (5) اور (یاد کرو) جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے یاد کرو تم نعمت اللہ کی اوپر اپنے، جب اس نے نجات دی تمھیں آل فرعون سے، وہ پہنچاتے تھے تم سخت عذاب اور ذبح کرتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ چھوڑتے تھے بیٹیاں تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی (6) اور جب آگاہ کر دیا(تھا) تمھارے رب نے، البتہ اگر شکر کرو گے تم تو یقینا (اور) زیادہ دوں گا میں تمھیں اور البتہ اگر کفر کرو گے تم تو بلاشبہ میرا عذاب بھی بہت سخت ہے (7) اور کہا موسیٰ نے ، اگر کفر کرو گے تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں سارے تو بے شک اللہ یقینا بے پروا، قابل تعریف ہے (8)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی بڑی بڑی نشانیوں کے ساتھ موسیٰu کو مبعوث فرمایا جو آپ کی رسالت کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی تھیں اور ان کو بھی وہی حکم دیا جو اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو دیا ہے بلکہ یہ وہی حکم ہے جو تمام انبیاء و مرسلین نے اپنی قوم کو دیا تھا ﴿اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’یہ کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف‘‘ یعنی جہالت، کفر اور اس کی فروعات کی تاریکیوں سے نکال کر علم، ایمان اور اس کے توابع کی روشنی کی طرف۔ ﴿ وَذَكِّرۡهُمۡ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ﴾ ’’اور یاد دلا ان کو اللہ کے دن‘‘ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور اس کے احسانات اور جھٹلانے والی قوموں کفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک اور وقائع یاد دلائیے تاکہ یہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے عذاب سے ڈریں ۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس میں ‘‘ یعنی بندوں کے متعلق ایام الٰہی میں ﴿ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’ہر صابر و شاکر کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی مصائب، تکلیف اور تنگی میں نہایت صابر اور خوشحالی اور نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے۔ایام الٰہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت، بے پایاں احسان اور اپنے کامل عدل و حکمت پر استدلال کیا ہے۔
[6] اس لیے موسیٰu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا ﴿ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اللہ نے تم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ ﴿ اِذۡ اَنۡجٰؔىكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ ﴾ ’’جب اس نے تمھیں فرعونیوں سے بچایا، وہ چکھاتے تھے تمھیں ‘‘ یعنی تمھیں عذاب دیتے تھے ﴿ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’برے عذاب‘‘ یعنی سخت ترین عذاب، پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَيُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے‘‘ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور اس میں ‘‘ یعنی اس نجات میں ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے عظیم نعمت تھی۔‘‘ یعنی عظیم نعمت تھی یا (اس کا معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ) اس عذاب میں جس میں تمھیں فرعون اور اس کے سرداروں نے مبتلا کیا تھا، تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی تاکہ وہ دیکھے کہ آیا تم اس سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں پر شکر کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب تمھارے رب نے آگاہ کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا ﴿ لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ دوں گا‘‘ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا ﴿ وَلَىِٕنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِيۡ لَشَدِيۡدٌ ﴾ ’’اور اگر تم نے کفر کیا تو میرا عذاب نہایت سخت ہے‘‘ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کو زائل کر دے جو انھیں عطا کی تھیں ۔ شکر سے مراد، دل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، ان نعمتوں پر دل سے اس کی حمد و ثنا کرنا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے۔ اور ان امور کے برعکس رویہ اختیار کرنا، کفران نعمت ہے۔
[8]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰۤى اِنۡ تَكۡفُرُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’موسیٰ نے کہا، اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں ، سارے کفر کریں ۔‘‘ تو تم اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے سب خوبیوں والا‘‘ پس نیکیاں اس کی بادشاہی میں اضافہ کر سکتی ہیں نہ گناہ اس کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع کر سکتے ہیں ، وہ غنا میں کامل ہے، وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں قابل حمد و ستائش ہے اس کی ہر صفت، صفت حمد و کمال ہے۔ اس کا ہر نام اچھا نام ہے اور اس کا ہر فعل، فعل جمیل ہے۔