Tafsir As-Saadi
14:13 - 14:17

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں سے البتہ ہم ضرور نکال دیں گے تمھیں اپنی زمین سے یا تم واپس آجاؤ ہمارے دین میں ، پس وحی کی ان کی طرف ان کے رب نے کہ یقینا ہم ضرور ہلاک کر دیں گے ظالموں کو (13) اور یقینا ہم ضرور آباد کریں گے تمھیں اس زمین میں بعد ان کے، یہ (وعدہ) اس شخص کے لیے ہے جو ڈرے میرے سامنے کھڑا ہونے سے اور ڈرے میری وعید سے (14) اور فتح طلب کی انھوں نےاور ناکام ہوا ہر سرکش، عناد رکھنے والا (15) آگے اس کے جہنم ہےاور وہ پلایا جائے گا پانی (جہنمیوں کی) پیپ کا (16) وہ گھونٹ گھونٹ پيے گا اسےاور نہیں قریب کہ اتار سکے وہ اس کو حلق سےاور آئے گی اس کو موت ہر طرف سےاورنہیں ہو گا وہ مرنے والااور اس (عذاب) سے آگے (اور ) عذاب ہو گا نہایت سخت (17)

[13] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل کی اپنی قوم کے سامنے دعوت، اس پر دوام اور عدم ملال کا ذکر فرمایا تو ان کی قوم کے ساتھ ان کا منتہائے حال بھی بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ ﴾ ’’اور جو کافر تھے انھوں نے اپنے رسولوں سے کہا۔‘‘ ان کو دھمکی دیتے ہوئے: ﴿لَنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا﴾ ’’ہم تمھیں اپنے وطن سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ‘‘ یہ انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانے کا سب سے زیادہ بلیغ طریقہ ہے اور اس کے بعد ان پر کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ انھوں نے ہدایت سے روگردانی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے رسولوں کو ان کے وطن سے نکال دینے کی بھی دھمکی دی اور وطن کو صرف اپنی طرف منسوب کیا، ان کا زعم تھا کہ وطن پر رسولوں کا کوئی حق نہیں ۔ اور یہ سب سے بڑا ظلم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روئے زمین پر پھیلایا اور ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا اور زمین اور زمین کی ہر چیز کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ان چیزوں سے مدد لیتے ہیں ۔ پس جو کوئی ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے یہ اس کے لیے جائز ہیں اور اس پر کوئی گرفت نہیں اور جو کوئی ان کو کفر اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی میں استعمال کرتا ہے تو یہ اشیاء اس کے لیے خالص ہیں نہ اس کے لیے حلال ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ دشمنان انبیاء، درحقیقت، زمین کی کسی شے کے مالک نہیں ، وہ زمین سے جس سے وہ انبیاء کرام کو جلا وطن کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اس کی کسی چیز کے بھی مالک نہیں … اگر ہم مجرد عادت کی طرف رجوع کریں تو انبیاء و مرسلین بھی اہل بلاد میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے وطن ہی میں بسنے والے افراد ہیں، تب وہ انھیں ان کے واضح اور صریح حق سے کیوں محروم کر رہے ہیں کیا یہ تمام تر دین اور مروت کے منافی نہیں ؟… اسی لیے جب رسولوں کے خلاف ان کی سازشیں اس حال کو پہنچ گئیں تو اس کے سوا کچھ باقی نہ رہا کہ اللہ اپنے حکم کو نافذ کر دے اور اپنے اولیاء کی مدد کرے۔ ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کر دیں گے‘‘ عذاب کی مختلف اقسام کے ذریعے سے۔
[14]﴿ وَلَنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم تم کو زمین میں آباد کریں گے، یہ‘‘ یعنی یہ اچھا انجام جس سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل اور ان کے پیروکاروں کو بہرہ ور کیا، اس شخص کی جزا ہے ﴿لِمَنۡ خَافَ مَقَامِيۡ ﴾ ’’جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے۔‘‘ یعنی جو دنیا میں ، مرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کا اس شخص کی مانند خوف کھاتا ہو جسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ ﴿ وَخَافَ وَعِيۡدِ ﴾ ’’اور میرے عذاب سے خوف کرے۔‘‘ یعنی میری وعید سے ڈرتا ہو جو میں نے اپنے نافرمانوں کو سنائی ہے، پس یہ ڈر اس بات کا موجب ہے کہ وہ ان امور سے رک جائے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ان کی طرف سبقت کرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔
[15]﴿ وَاسۡتَفۡتَحُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے فیصلہ طلب کیا۔‘‘ یعنی کفار نے، یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے، اس کے اولیاء اور اس کے اعداء کے درمیان تفریق و امتیاز کے مطالبے میں جلدی مچائی، پس انھوں نے جو فیصلہ طلب کیا تھا، وہ ان کے پاس آگیا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو نہایت حلم والا ہے۔ وہ اپنے نافرمانوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ ﴿ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’اور نامراد ہوا ہر سرکش ضدی‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ، حق اور اللہ کے بندوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتا ہے، زمین میں تکبر کرتا ہے اور انبیاء و رسل کے خلاف عناد رکھتا ہے اور ان کی مخالفت کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر ہوتا ہے۔
[16]﴿ مِّنۡ وَّرَآىِٕهٖ جَهَنَّمُ ﴾ ’’اس کے پیچھے دوزخ ہے‘‘ یعنی جہنم اس معاند حق، جابر شخص کی گھات میں ہے وہ ضرور اس جہنم میں وارد ہو گا، تب اسے سخت عذاب کا مزا چکھایا جائے گا۔ ﴿ وَيُسۡقٰى مِنۡ مَّآءٍ صَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا‘‘ جو اپنے رنگ، ذائقے اور بدبو میں خون اور پیپ جیسا ہو گا اور وہ انتہائی گرم ہو گا۔
[17]﴿ يَّتَجَرَّعُهٗ ﴾ ’’وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پيے گا۔‘‘ یعنی سخت پیاس کے مارے گھونٹ گھونٹ پيے گا ﴿ وَلَا يَكَادُ يُسِيۡغُهٗ﴾ ’’اور اس کو گلے سے نہیں اتار سکے گا‘‘ کیونکہ جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لے کر جائے گا تو وہ چہرے کو بھون کر رکھ دے گا اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو جہاں سے گزرے گا انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَيَاۡتِيۡهِ الۡمَوۡتُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ﴾ ’’اور اسے ہر جگہ سے موت آئے گی جبکہ وہ مرے گا نہیں ‘‘ یعنی اس کو ہر قسم کا سخت عذاب دیا جائے گا اور اپنی شدت کے اعتبار سے عذاب کی ہر نوع موت کی مانند ہو گی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو گا کہ اسے موت نہ آئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِيۡ كُلَّ كَفُوۡرٍۚ۰۰وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا﴾(فاطر:35؍36-37) ’’انھیں موت نہیں آئے گی کہ مر جائیں نہ ان پر عذاب ہی کو ہلکا کیا جائے گا ہم ہر بڑے کافر کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور وہ اس میں چلائیں گے۔‘‘ ﴿ وَمِنۡ وَّرَآىِٕهٖ ﴾ ’’اور اس کے پیچھے‘‘ یعنی جبار، معاند حق کے پیچھے ﴿ عَذَابٌ غَلِيۡظٌ ﴾ ’’سخت عذاب ہوگا۔‘‘ یعنی نہایت قوی اور سخت عذاب، جس کے وصف اور شدت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔