Tafsir As-Saadi
13:40 - 13:41

اور اگر ہم دکھائیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے یا ہم وفات دے دیں آپ کو، پس آپ پر توصرف پہنچانا ہی ہےاور ہم پر ہے حساب (لینا)(40)کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم چلے آتے ہیں (ان کی) زمین کو، کم کرتے ہوئے اسے اس کے اطراف سےاور اللہ حکم کرتا ہے، نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے حکم کواور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (41)

[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں ۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ مَّا نُرِيَنَّكَ ﴾ ’’اگر دکھلا دیں ہم آپ کو‘‘ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ﴾ ’’یا آپ کو اٹھا لیں ‘‘ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں ۔ ﴿ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ﴾ ’’آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔‘‘ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴾ ’’اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے‘‘ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے… اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں ۔اس کے ظاہر معنی یہ ہیں...واللہ تعالیٰ اعلم… کہ اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کی اراضی کی حالت یہ بنا دی کہ وہ فتح ہو رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، ان پر چاروں طرف سے مصائب ٹوٹ رہے ہیں ، ان کی جان و مال میں کمی سے پہلے یہ ان کے لیے تنبیہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر ایسے عذاب نازل کر رہا ہے جسے کوئی رد کرنے پر قادر نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ﴾ ’’اور اللہ، فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم شرعی، حکم کونی و قدری اور حکم جزائی داخل ہے۔ یہ تمام احکام، جن کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے، حکمت اور پختگی کے بلند ترین درجے پر پائے جاتے ہیں جن میں کوئی نقص اور کوئی خلل نہیں ۔ بلکہ یہ تمام احکام عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر مبنی ہیں کوئی ان فیصلوں میں خامی اور نقص تلاش نہیں کر سکتا اور نہ ان میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہستیوں کے فیصلے کبھی حق و صواب کے موافق ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مطالبے میں جلدی نہ مچائیں کیونکہ ہر وہ چیز جسے آنا ہے وہ قریب ہوتی ہے۔