اور تحقیق تدبیریں کی تھیں (انبیاء کے خلاف) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے،پس واسطے اللہ ہی کے ہیں تدبیریں ساری، وہ جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر نفساور عن قریب جان لیں گے کافر، کس کے لیے ہے (اچھا) انجام آخرت کا؟ (42) اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے تو رسول، آپ کہہ دیجیے، کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیاناور وہ شخص (بھی) کہ اس کے پاس ہے علم کتاب کا (43)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَقَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں اور اس حق کے خلاف سازشیں کیں جنھیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ ﴿ فَلِلّٰهِ الۡمَؔكۡرُ جَمِيۡعًا﴾ ’’پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر‘‘ یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چال چلنے پر قادر نہیں اور یہ چال اللہ تعالیٰ کی قضاوقدر کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انھی کی طرف لوٹے گی۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ﴾ ’’وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر نفس‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک نفس کے عزم و ارادے اور ظاہری اور باطنی اعمال کو خوب جانتا ہے۔ مکر اور سازش بھی لازمی طور پر انسان کے اکتساب میں شمار ہوتے ہیں ، پس ان کا مکر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ۔ اس لیے یہ ممتنع ہے کہ ان کی چال حق اور اہل حق کو نقصان پہنچا کر ان کو کوئی فائدہ دے۔ فرمایا:﴿ وَسَيَعۡلَمُ الۡكُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى الدَّارِ ﴾ ’’اور عنقریب جان لیں گے کافر کہ کس کے لیے ہے گھر عاقبت کا‘‘ یعنی اچھا انجام کفار کے لیے ہے یا اللہ کے رسولوں کے لیے؟ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ اہل تقویٰ کی عاقبت اچھی ہے۔ کفر اور اہل کفر کی عاقبت اچھی نہیں ہے۔
[43]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا﴾ ’’اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں ‘‘ یعنی کفار آپﷺ کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ قُلۡ﴾ اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾’’اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے‘‘ اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپﷺ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ کی، آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین کی قدرت اختیار سے باہر تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فعل و تائید کے ذریعے سے شہادت ہے۔ اقرار کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو خبر دی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کریں ۔ پس جو کوئی آپ کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضامندی اور اس کی کرامت ہے اور جو کوئی آپ کی اطاعت نہیں کرتا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دعوے پر برقرار رکھتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو عذاب دے دیتا۔﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور جس کو خبر ہے کتاب کی‘‘ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے تمام علماء کو شامل ہے۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی ایمان لا کر حق کی اتباع کرتا ہے وہ رسول اللہﷺ کی گواہی دیتا ہے اور نہایت صراحت سے آپ کے حق میں شہادت دیتا ہے اور ان میں سے جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خبر کہ اس کے پاس شہادت ہے، اس کی خبر سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر اس کے پاس شہادت نہ ہوتی تو دلیل کے ساتھ اپنے طلب شہادت کو رد کر دیتا۔ پس اس کا سکوت دلالت کرتا ہے کہ اس کے پاس رسول کے حق میں شہادت موجود ہے جو اس نے چھپا رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ہر معاملے میں صرف اسی شخص سے گواہی لی جانی چاہیے جو اس کا اہل ہو اور دوسروں کی نسبت اس بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس معاملے میں بالکل اجنبی ہوں ، مثلاً:ان پڑھ مشرکین عرب وغیرہ تو ان سے شہادت طلب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر ہے نہ انھیں اس کی معرفت ہی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔