Tafsir As-Saadi
14:18 - 14:18

حال ان لوگوں (کے عملوں ) کا جنھوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ، (یہ ہو گا کہ) ان کے اعمال مانند اس راکھ کے ہوں گے کہ سخت چلی اس (راکھ) پر ہوا، آندھی والے روز، نہیں قدرت رکھیں گے وہ ان اعمال میں سے جو انھوں نے کمائے اوپر کسی چیز کے (ان میں سے) یہی ہے گمراہی دور کی (18)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے اعمال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے… اور ان اعمال سے یا تو وہ اعمال مراد ہیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کیے ہیں ۔ یہ اعمال بے فائدہ جانے، اپنے بطلان اور اپنے اضمحلال میں راکھ کی مانند ہیں جو سب سے گھٹیا اور سب سے ہلکی چیز ہے۔ سخت آندھی والے دن جب سخت ہوا چلتی ہے تو اس راکھ میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، اس راکھ کے اڑ جانے اور مضمحل ہونے سے روکنے کی قدرت کوئی نہیں رکھتا۔ اسی طرح کفار کے اعمال ہیں ﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا عَلٰى شَيۡءٍ﴾ ’’جو وہ کام کرتے رہے ان پر وہ کچھ دسترس نہ رکھیں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اعمال میں سے ذرہ بھر عمل کے اجر کے حصول پر بھی قادر نہ ہوں گے کیونکہ یہ عمل کفر اور تکذیب پر مبنی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ ﴾ ’’یہی ہے دور کی گمراہی‘‘ کیونکہ ان کی کوشش رائیگاں گئی اور ان کا عمل باطل ہو گیا۔ یا ان اعمال سے مراد کفار کے وہ اعمال ہیں جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے، وہ حق میں جرح اور قدح کیا کرتے تھے۔ ان کے مکروفریب کا وبال انھی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کے لشکر اور حق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔