Tafsir As-Saadi
14:31 - 14:31

کہہ دیجیے میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے، کہ وہ قائم کریں نماز اور خرچ کریں اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر، پہلے اس سے کہ آئے وہ دن کہ نہ خرید و فروخت ہو گی اس میں اور نہ دوستی (ہی کام آئے گی)(31)

[31]﴿ قُلۡ لِّعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’میرے مومن بندوں سے کہہ دو۔‘‘ یعنی انھیں ان امور کا حکم دیجیے جن میں ان کی اصلاح ہے اور انھیں یہ بھی حکم دیا کہ اس سے قبل کہ ان کی اصلاح ممکن نہ ہو وہ فرصت کو غنیمت جانیں ۔ ﴿ يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ وہ ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کریں ﴿وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے جو انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کم یا زیادہ جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے خرچ کریں ﴿ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’چھپے اور ظاہر‘‘ یہ حکم نفقات واجبہ ، مثلاً: زکٰوۃ اور نفقات کفالت اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام صدقات وغیرہ کو شامل ہے۔ ﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دن آ جائے، جس میں نہ کوئی سودا ہو گا نہ دوستی‘‘ یعنی اس دن کوئی چیز فائدہ نہ دے گی اور جو چیز فوت ہو گئی ہو گی تو کسی خرید و فروخت کے معاوضے، کسی ہبہ اور کسی دوست یار کے ذریعے سے اس کا تدارک ممکن نہیں ہو گا۔ پس ہر شخص کا اپنا اپنا معاملہ ہوگا جو اس کو دوسروں سے بے نیاز کر دے گا، اس لیے ہر شخص کو اپنے لیے کچھ بھیجنا چاہیے اور خوب اچھی طرح غور کر لے کہ وہ کل کے لیے کیا آگے بھیج رہا ہے۔ وہ اپنے اعمال پر نظر ڈالے اور بڑے حساب کتاب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کر لے۔