اللہ ہی ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین اور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر اس نے نکالے (پیدا کیے) اس (پانی) کے ذریعے سے پھل، روزی تمھارے لیےاور تابع کر دیا واسطے تمھارے کشتیوں کو تاکہ چلیں وہ سمندر میں اس (اللہ) کے حکم سےاور تابع کر دیا تمھارے لیے نہروں کو (32) اور تابع کر دیا واسطے تمھارے سورج اورچاند کو درانحالیکہ وہ دونوں برابر چل رہے ہیں اور مطیع کر دیا واسطے تمھارے رات اوردن کو (33) اور اس نے دی تمھیں ہر وہ چیز کہ سوال کیا تم نے اس کااور اگر تم شمار کرو نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم انھیں ، بے شک انسان ، البتہ بڑا ظالم، نہایت ناشکرا ہے (34)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو (ان کی وسعتوں کے ساتھ) پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ﴾ ’’اور اتارا آسمان سے پانی‘‘ اس سے مراد وہ بارش ہے جسے اللہ تعالیٰ بادلوں سے برساتا ہے ﴿ فَاَخۡرَجَ بِهٖ ﴾ ’’پس اس کے ذریعے سے نکالے۔‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے سے ﴿ مِنَ الثَّمَرٰتِ ﴾ مختلف انواع کے پھل ﴿ رِزۡقًا لَّكُمۡ﴾ تمھارے اور تمھارے مویشیوں کے لیے رزق ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے کشتیوں کو‘‘ یعنی جہاز اور کشتیاں ﴿ لِتَجۡرِيَ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’کہ چلیں وہ سمندر میں اس کے حکم سے‘‘ وہی ہے جس نے جہازوں اور کشتیوں کی صنعت کو تمھارے لیے آسان بنا کر تمھیں ان پر قدرت عطا کی۔ پانی کی موجوں پر ان کی حفاظت کی۔ تاکہ تمھیں اور تمھارے تجارتی مال و اسباب کو اس شہر تک اٹھا لے جائے جہاں کا تم قصد رکھتے ہو۔﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡاَنۡهٰرَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے نہروں کو‘‘ تاکہ تم اپنے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرو اور خود بھی ان کا پانی پیو۔
[33]﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآىِٕبَيۡنِ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔‘‘ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمھارے مصالح یعنی زمان و اوقات کے حساب، تمھارے ابدان، تمھارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لیے رواں دواں رہتے ہیں ۔ ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اور کام میں لگایا دیا تمھارے لیے رات کو‘‘ تاکہ تم آرام کر سکو۔ ﴿ وَالنَّهَارَ ﴾ ’’اور دن کو‘‘ تمھارے دیکھنے کے لیے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔
[34]﴿ وَاٰتٰىكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡهُ﴾ ’’اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمھاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو، مثلاً: مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات و صناعات وغیرہ۔ ﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا﴾ ’’اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو توتم شمار نہ کرسکو۔‘‘ یعنی تمھارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’یقینا انسان نہایت نادان، بہت بے شکرا ہے‘‘ یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر وہی ادا کر سکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اورمفصل طور پر بیان ہوئی ہیں …اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔