پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔
[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔
[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔
[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں کو لپیٹ لے گی۔‘‘ جو ان کے بدن میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہوں گے ﴿ النَّارُ ﴾ ’’آگ‘‘ یعنی آگ ان کے چہرے کو گھیر لے گی اور ہر جانب سے اس کو جلا ڈالے گی۔ اور چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصے تو بدرجہ اولیٰ اس آگ میں جلیں گے۔
[51] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اعمال کی جزا ہے جن کا انھوں نے اکتساب کر کے آگے بھیجے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِيَجۡزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ﴾ ’’تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کا نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بدلہ دے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی ظلم نہ ہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِيۡ غَفۡلَةٍ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍1) ’’لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے اور منہ موڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ بہت سرعت سے ان کا حساب کتاب ہو گا اور ایک ہی گھڑی میں تمام مخلوق کا حساب کتاب ہو جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ آن واحد میں تمام مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اور ان میں مختلف انواع کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی معاملہ اسے کسی دوسرے معاملے سے غافل نہیں کر سکتا اور یہ سب کچھ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح کھول کھول کر اس قرآن میں بیان کر دیا تو پھر اس کی مدح میں فرمایا ﴿ هٰؔذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ ﴾ ’’یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو‘‘ یعنی یہ ان کے لیے کافی ہے، وہ اسے زاد راہ بنا کر بلند ترین مقامات پر اور افضل ترین کرامات تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام علوم اوراصول و فروع پر مشتمل ہے جس کے بندے محتاج ہیں ﴿ وَلِيُنۡذَرُوۡا بِهٖ ﴾’’اور تاکہ انھیں اس سے ڈرایا جائے‘‘ کیونکہ اس میں برے اعمال اور اس عذاب سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بداعمال لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔﴿ وَلِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف وہی ایک ہے‘‘ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور وحدانیت پر ایسے دلائل اور براہین بیان کیے ہیں جن سے یہ علم حق الیقین بن جاتا ہے ﴿ وَّلِيَذَّكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں ۔‘‘ یعنی عقل کامل کے حامل لوگ اس سے نصیحت پکڑیں ، وہ کام کریں جو ان کے لیے فائدہ مند ہے اور وہ کام چھوڑ دیں جو ان کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنے سے وہ عقل مند اور اصحاب بصیرت بن جائیں گے۔ اس لیے کہ قرآن کے ذریعے سے ان کے معارف اور آراء صائبہ میں اضافہ اور ان کے افکار روشن ہوتے ہیں ۔ کیونکہ انھوں نے قرآن کے تازہ افکار حاصل کیے ہیں ، قرآن انھیں بلندترین اخلاق و اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ ان پر قوی ترین، واضح ترین دلائل سے استدلال کرتا ہے۔ ایک ذہین بندۂ مومن جب اس قاعدہ کلیہ کو اپنا لائحہ عمل بنا لیتا ہے تو وہ دائمی طور پر ہر قابل ستائش خصلت میں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا ہے۔