اور آپ ڈرائیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا (اس دن) ان پر عذاب، پس کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا تھا، اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی سی مدت تک، ہم قبول کر لیں گے تیری دعوت اور پیروی کریں گے رسولوں کی، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں تھے تم کہ قسمیں کھاتے تھے پہلے اس سے کہ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی زوال (44)اور آباد تھے تم گھروں میں انھی لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پراورواضح ہو گیا تھا واسطے تمھارے کہ کیسا (سلوک) کیا ہم نے ساتھ ان کے؟ اور بیان کی تھیں ہم نے تمھارے لیے مثالیں (45) اور تحقیق مکر كيے تھے انھوں نے اپنے مکراور اللہ کے پاس ہیں ان کے مکراور نہ تھے مکر ان کے کہ ٹل جاتے بوجہ ان (مکروں ) کے پہاڑ (46)
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔
[45]﴿ وَ ﴾ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنۡتُمۡ فِيۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ ﴾ ’’تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ‘‘ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں ۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔
[46]﴿ وَقَدۡ مَكَرُوۡا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكۡرَهُمۡ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر: 35؍43) ’’اور بری چالوں کا وبال انھی لوگوں پر پڑتا ہے جو چالیں چلتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِـتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ ﴾ ’’اگرچہ ان کی چال ایسی تھی کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ‘‘ یعنی انبیاء و رسل اور وحی کو جھٹلانے والوں کی چالیں اور سازشیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے سبب سے بڑے بڑے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ، یعنی ﴿وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًؔا﴾(نوح: 71؍22) ’’انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں ۔‘‘ ان کی سازشیں اتنی بڑی تھیں کہ ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشیں انھی پر الٹ دیں ۔اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص شامل ہے جو باطل کی نصرت اور حق کے ابطال کے لیے،انبیاء و رسل کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آئیں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچا سکے بلکہ انھوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔