Tafsir As-Saadi
15:16 - 15:20

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور خوب صورت کردیا ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے (16) اور حفاظت کی ہے ہم نے اس کی ہر شیطان مردود سے (17) مگر جو چوری چھپے لگائے کان (اور کچھ سن لے) تو پیچھے لگتا ہے اس کے شعلہ ظاہر (دہکتا ہوا)(18) اور زمین، پھیلایا ہم نے اسےاور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑاور ہم نے اگائی اس میں ہر چیز سے مناسب مقدار (19) اور بنائے ہم نے تمھارے لیے اس میں گزر ان کے اسباب اور ان کے لیے (بھی) کہ نہیں ہو تم واسطے ان کے روزی رساں (20)

[16] اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج‘‘ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے‘‘ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
[17]﴿وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ ﴾ ’’اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے‘‘ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
[18]﴿ اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ ﴾ ’’مگر جو چوری سے سن بھاگا‘‘ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔‘‘ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
[19]﴿ وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا ﴾ ’’اور زمین کو ہم نے پھیلایا‘‘ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ ﴾ ’’اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے‘‘ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں ، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
[20]﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور بنا دیے تمھارے لیے اس میں روزی کے اسباب‘‘ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسام کے پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمھاری روزی وابستہ کی ﴿ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰؔزِقِـيۡنَ ﴾ ’’اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے‘‘ یعنی ہم نے تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے تمھیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کیے جن کا رزق تمھارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھیں عطا کیا اور ان کے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔