اور خبر دیجیے انھیں مہمانوں کی بابت ابراہیم کے (51) جس وقت داخل ہوئے وہ اس پر تو کہا انھوں نے، سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، تحقیق ہم تو تم سے ڈرتے ہیں (52) انھوں نے کہا، نہ ڈر تو، بلاشبہ ہم تو خوش خبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے علم والے کی (53) ابراہیم نے کہا، کیا تم خوشخبری دیتے ہو مجھے باوجود اس کے کہ پہنچ چکا ہے مجھے بڑھاپا؟ سو (اب) کس چیز کی خوشخبری دیتے ہو تم؟ (54)انھوں نے کہا، ہم بشارت دیتے ہیں تجھے حق (امر واقعی) کی پس نہ ہو تو ناامیدوں میں سے (55)ابراہیم نے کہااور وہ کون ناامید ہوتا ہے رحمت سے اپنے رب کی سوائے گمراہوں کے؟ (56)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں ‘‘ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیلu کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں ۔ حضرت ابراہیمu کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
[52]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام‘‘ یعنی انھوں نے ابراہیمu کو سلام کیا اور ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم تم لوگوں سے خائف ہیں ۔‘‘ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیمu کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوۡا﴾ فرشتوں نے ان سے کہا:
[53]﴿ لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں ‘‘ یہاں لڑکے سے مراد اسحاقu ہیں ۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ’’علیم‘‘ سے مراد ہے ’’کثیر العلم‘‘ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرۡنٰهُ بِـاِسۡحٰؔقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(الصافات:37؍ 112) ’’اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[54] ابراہیمu نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِيۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔‘‘ ﴿ عَلٰۤى اَنۡ مَّسَّنِيَ الۡكِبَرُ ﴾ ’’جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا‘‘ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴾ ’’پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟‘‘ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں ۔
[55]﴿ قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے‘‘ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں ۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
[56] ابراہیمu نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ ’’رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں ‘‘ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیمu کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔