بے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (45)(انھیں کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ تم ان میں ساتھ سلامتی کے، با امن (46) اور نکال دیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (باہم) کینہ، وہ بھائی بھائی ہوں گے، اوپر تختوں کے آمنے سامنے (بیٹھے ہوئے)(47) نہیں چھوئے گی انھیں ان (باغات) میں کوئی تھکاوٹ اور نہ وہ ان سے نکالے ہی جائیں گے (48)(اے پیغمبر!) خبر دے دیجیے میرے بندوں کو کہ یقینا میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے ولاہوں (49) اور بلاشبہ عذاب میرا ، وہی عذاب ہے بڑا درد ناک (50)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیزگار‘‘ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں ، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ﴾ ’’باغات اور چشموں میں ہوں گے‘‘ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
[46] جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ‘‘ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
[47]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ‘‘ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
[48]﴿ لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ‘‘ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمۡ مِّؔنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
[49] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں ، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں ، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَبِّئۡ عِبَادِيۡۤ ﴾ ’’میرے بندوں کو بتادو۔‘‘ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّيۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں ۔‘‘ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں ، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
[50] اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں ۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّ عَذَابِيۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ ﴾ ’’میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے‘‘ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں ، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ ﴾(الفجر:89؍25۔26) ’’اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔‘‘ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔