اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ کیا ہے جو نازل کیا تمھارے رب نے؟ تو وہ کہتے ہیں ، قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی (24) تا کہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ پورے، دن قیامت کےاور بوجھ ان لوگوں کے بھی جنھیں وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے، آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ اٹھا رہے ہیں (25)تحقیق مکر کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس آیا اللہ (کا عذاب) ان کی عمارت کو (تباہ کرنے) بنیادوں سے، پس گر پڑی ان پرچھت ان کے اوپر سے، اور آیا ان کے پاس عذاب جہاں سے نہیں شعور رکھتے تھے وہ (26) ، پھر دن قیامت کے اللہ رسوا کرے گا انھیں اور کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جو تھے تم جھگڑا کرتے ان کی بابت (مومنوں سے)؟ کہیں گے وہ لوگ جو دیے گئے علم، بلاشبہ رسوائی آج کے دن اور برائی (عذاب) ہے اوپر کافروں کے (27) وہ لوگ کہ قبض کرتے ہیں ان کی روحیں فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے تھے اپنی جانوں پر، پس پیش کریں گے وہ صلح (موت کے وقت یہ کہتے ہوئے )، کہ نہیں تھے ہم عمل کرتے کوئی بھی برا، (کہتے ہیں فرشتے) کیوں نہیں ؟ بے شک اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم عمل کرتے (28)(انھیں کہا جائے گا) پس داخل ہو جاؤ تم دروازوں میں جہنم کے، ہمیشہ رہو گے اس میں ، پس ، البتہ بہت ہی برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (29)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’جب ان سے کہا جاتا ہے، تمھارے رب نے کیا اتارا ہے؟‘‘ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے… کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے… کہ تمھارا اس کی بابت کیا جواب ہے؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو؟ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ) نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنھیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں ۔
[25] یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِيۡنَ يُضِلُّوۡنَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ﴾ ’’اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے‘‘ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں ۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں ۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں ، برے ہیں ۔‘‘ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔
[27,26]﴿ قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کیے اور اپنے مکروفریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کیے۔ ﴿ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ﴾یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکر و فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ﴿ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ﴾ ’’پس گر پڑی ان پر چھت‘‘ سازشوں کا تانا بانا بن کر انھوں نے مکرو فریب کی جو عمارت کھڑی کی تھی ان کے لیے عذاب بن گئی جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا۔ ﴿وَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور آیا ان کے پاس عذاب، جہاں سے ان کو خبر نہ تھی‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ یہ عمارت ان کو فائدہ دے گی اور ان کو عذاب سے بچا لے گی مگر اس کے برعکس انھوں نے جو بنیاد رکھی تھی وہ ان کے لیے عذاب بن گئی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے مکروفریب کے ابطال میں بہترین مثال دی ہے کیونکہ جب انھوں نے رسولوں کی دعوت کی تکذیب کی تو انھوں نے خوب سوچ سمجھ کر ان کی تکذیب کی انھوں نے کچھ باطل اصول و قواعد وضع کیے جن کی طرف یہ رجوع کرتے تھے اور ان خود ساختہ اصولوں کی بنا پر رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، نیز انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کو نقصان اور تکالیف پہنچانے کے لیے حیلے وضع کرتے تھے۔ پس ان کا مکروفریب ان کے لیے وبال بن گیا اور ان کی تدبیریں خود ان کی تباہی کا باعث بن گئیں ۔ کیونکہ ان کا مکروفریب انتہائی برا کام تھا ﴿ وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر:35؍43) ’’اورمکروفریب کا وبال انھی پر پڑتا ہے جومکروفریب کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تو ہے دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے زیادہ رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُخۡزِيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ برسرعام خلائق کے سامنے ان کو رسوا کرے گا، ان کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کو آشکارا کرے گا۔ ﴿ وَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تُشَآقُّوۡنَ فِيۡهِمۡ﴾ ’’اور کہے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک جن پر تم کو بڑی ضدتھی‘‘ یعنی جن کی خاطر تم اللہ تعالیٰ اور حزب اللہ سے عداوت اور ان سے جنگ کرتے اور ان کے بارے میں یہ زعم باطل رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کرے گا تو ان کے پاس اپنی گمراہی کے اقرار اور اپنے عناد کے اعتراف کے سوا کوئی جواب نہ ہو گا۔ پس وہ کہیں گے:﴿ ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاعراف7؍37) ’’وہ سب غائب ہو گئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی وہ حق کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’وہ لوگ کہیں گے جن کو علم دیا گیا تھا‘‘ یعنی علمائے ربانی ﴿ اِنَّ الۡخِزۡيَ الۡيَوۡمَ﴾ ’’بے شک رسوائی آج کے دن‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ وَالسُّوۡٓءَ ﴾ ’’اور برائی‘‘ یعنی بہت برا عذاب ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’کافروں پر ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اہل علم کی فضیلت کا بیان ہے کہ وہ اس دنیا میں حق بولتے ہیں اور اس روز بھی حق بات کہیں گے جس روز گواہ کھڑے ہوں گے اور ان کی بات اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک قابل اعتبار ہو گی۔
[28] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی وفات کے وقت اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں جبکہ وہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے اس حال میں ان کی جان قبض کر رہے ہوں گے کہ ان کا ظلم اور ان کی گمراہی اپنے عروج پر ہو گی اور ظالم لوگ جس طرح وہاں ، مختلف قسم کے عذاب، رسوائی اور اہانت سے دوچار ہوں گے، معلوم ہو جائے گا۔ ﴿ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ ﴾ ’’تب وہ ظاہر کریں گے فرماں برداری‘‘ یعنی اس وقت وہ بڑی فرماں برداری کا اظہار اور اپنے ان معبودوں کا انکار کریں گے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور کہیں گے: ﴿ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ﴾ ’’ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔‘‘ ان سے کہا جائے گا: ﴿ بَلٰۤى ﴾ ’’کیوں نہیں ‘‘ تم برائی کیا کرتے تھے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یقینا اللہ، تم جو کچھ کرتے تھے، جانتا ہے‘‘ پس تمھارا انکار تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان کے یہ احوال قیامت کے بعض مقامات پر ہوں گے۔ وہ یہ گمان کرتے ہوئے، دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا انکار کر دیں گے کہ ان کا یہ انکار ان کو کچھ فائدہ دے گا۔ مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر جوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے اعمال لوگوں کے سامنے آشکارا ہو جائیں گے تو اپنے کرتوتوں کا اقرار اور اعتراف کر لیں گے، اس لیے وہ اس وقت تک جہنم میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کر لیں گے۔
[29] جب وہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوں گے تو تمام گناہ گار اپنے گناہ کے مطابق اور اپنے حسب حال دروازوں میں سے داخل ہوں گے۔ ﴿ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا‘‘ یعنی جہنم کی آگ کیونکہ یہ حسرت و ندامت کا ٹھکانا، الم و شقاوت کی منزل، رنج و غم کا مقام اور اللہ حیی و قیوم کی سخت ناراضی کا موقع ہو گا۔ جہنم کا عذاب ان سے دور نہ کیا جائے گا، جہنم کے عذاب کی المناکی کو ان سے ایک دن کے لیے بھی رفع نہ کیا جائے گا۔ رب رحیم ان سے منہ پھیر لے گا اور ان کو عذاب عظیم کا مزا چکھائے گا۔