Tafsir As-Saadi
16:48 - 16:50

کیا نہیں دیکھا انھوں نے اس بات کو کہ جو بھی پیدا کی اللہ نے کوئی چیز، جھکتا ہے سایا اس کا دائیں اوربائیں طرف سے، سجدہ کرتے ہوئے اللہ کواور وہ ( اس کے سامنے) عاجز ہیں (48) اورواسطے اللہ ہی کے سجدہ کرتی ہے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین پر چلنے والوں میں سے اور فرشتے بھی اور نہیں وہ تکبر کرتے (49) وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سے، اپنے اوپر سےاور وہ کرتے ہیں (وہی کچھ) جو وہ حکم دیے جاتے ہیں (50)

[48] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی کیا اپنے رب کی توحید، اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا؟ ﴿ اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان چیزوں کی طرف، جن کو اللہ نے پیدا کیا‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی طرف ﴿ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ ﴾ کہ ’’ان کے سائے لوٹتے رہتے ہیں ‘‘ ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَالشَّمَآىِٕلِ سُجَّؔدًؔا لِّلّٰهِ ﴾ ’’ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے، اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی تمام اشیا کے سائے، اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جھکے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل، مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت مقہور ہیں ۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی پیشانی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں اور اس کی تدبیر اس کے پاس نہ ہو۔
[49]﴿ وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّةٍ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں میں سے‘‘ یعنی تمام انسانوں اور حیوانات میں سے ﴿ وَّالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’اور فرشتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فضیلت، ان کے شرف اور ان کی کثرت عبادت کی وجہ سے، تمام مخلوقات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ اپنی کثرت، عظمت اخلاق اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار نہیں کرتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ لَنۡ يَّسۡتَنۡكِفَ الۡمَسِيۡحُ اَنۡ يَّكُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰهِ وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾(النساء: 4؍ 172) ’’مسیح (عیسیٰu) اور مقرب فرشتے اس بات کو عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔‘‘
[50]﴿ يَخَافُوۡنَ رَبَّهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ﴾ ’’ڈر رکھتے ہیں وہ اپنے رب کا اپنے اوپر سے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی کثرت اطاعت اور ان کے خشوع و خضوع پر ان کی مدح کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ سے ان کے خوف پر ان کی مدح فرمائی ہے، جو بالذات ان کے اوپر، ان پر غالب اور کامل اوصاف کا مالک ہے اور وہ اس کے دست قدرت کے تحت ذلیل اور مقہور ہیں ۔ ﴿ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ﴾’’جو ان کو ارشاد ہوتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی انھیں حکم دیتا ہے وہ خوشی اور پسندیدگی سے اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے مخلوق کے سجدے کی دو اقسام ہیں ۔(۱)سجدۂ اضطراری : یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اس سجدہ میں مومن اور کافر، نیک اور بد،انسان اور حیوان سب شامل ہیں ۔(۲) سجدۂ اختیاری : جو اس کے اولیاء، اس کے مومن بندوں ، فرشتوں اور دیگر مخلوقات سے مختص ہے۔