اور ٹھہراتے ہیں وہ واسطے ان (معبودوں ) کے جن کی بابت وہ نہیں جانتے، ایک حصہ اس میں سے جو ہم نے رزق دیا انکو، قسم اللہ کی! ، البتہ ضرور پوچھے جاؤ گے تم اس چیز کی بابت جو تھے تم (اللہ پر) افترا باندھتے (56) اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، پاک ہے وہ (اولاد سے) اور ان کے لیے وہ ، جووہ چاہتے ہیں (یعنی بیٹے)(57) اور جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے بیٹی کی (پیدائش کی) تو ہو جاتا ہے اس کاچہرہ سیاہ جبکہ وہ غم و غصہ سے بھرا ہوتا ہے (58) چھپتا پھرتا ہے لوگوں سے بوجہ اس عار کے کہ جو خوشخبری دیا گیا وہ ساتھ اس کے، کیا روک (باقی) رکھے اسے اوپر ذلت کے یا گاڑ (دبا) دے اس کو مٹی میں ؟ آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (59) ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے ، مثال ہے بری اور اللہ کے لیے ہے مثال سب سے اونچی اور وہی ہے بڑا غالب، خوب حکمت والا (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت، ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو… جو کوئی علم رکھتے ہیں ، نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں … اس رزق میں حصہ دار بناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا فَقَالُوۡا هٰؔذَا لِلّٰهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهٰؔذَا لِشُرَؔكَآىِٕنَا۠١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ … الآيۃ ﴾(الانعام: 6؍ 136) ’’ان مشرکین نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ہے پھر جو حصہ ان کے شریکوں کے لیے ہے، وہ اللہ تک نہیں پہنچتا…‘‘ ﴿ تَاللّٰهِ لَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! تم جو افترا پردازی کرتے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔‘‘ فرمایا ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾(یونس: 10؍59) ’’کیا اللہ نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘ اور فرمایا:﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾(یونس: 10؍60) ’’اور ان لوگوں کا کیا خیال ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟‘‘ اس افترا پردازی پر انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔
[59-57]﴿ وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾ ’’اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، وہ اس سے پاک ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے فرشتوں کے بارے میں ، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں ، کہا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ﴿ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے وہ ہے جو وہ چاہتے ہیں ‘‘ یعنی خود اپنے لیے بیٹے چاہتے ہیں حتیٰ کہ بیٹیوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ پس ان کا یہ حال تھا کہ ﴿ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِالۡاُنۡثٰى ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا﴾ ’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری ملتی تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا‘‘ اس کرب و غم سے جو اس کو پہنچتا۔ ﴿ وَّهُوَؔ كَظِيۡمٌ﴾’’اور وہ جی میں گھٹتا‘‘ یعنی جب اسے بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو وہ حزن و غم کے مارے خاموش ہو جاتا حتیٰ کہ وہ اس خبر سے اپنے ابنائے جنس میں اپنی فضیحت محسوس کرتا اور اس خبر پر وہ عار کی وجہ سے منہ چھپاتا پھرتا، پھر وہ اپنی اس بیٹی کے بارے میں جس کی اس کو خوش خبری ملتی، اپنی فکر اور فاسد رائے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے؟﴿ اَيُمۡسِكُهٗ عَلٰى هُوۡنٍ ﴾ ’’کیا اسے رہنے دے، ذلت قبول کر کے‘‘ یعنی آیا اہانت اور ذلت برداشت کر کے اسے قتل نہ کرے اور زندہ چھوڑ دے۔ ﴿اَمۡ يَدُسُّهٗ فِي الـتُّرَابِ﴾ ’’یا اس کو داب دے مٹی میں ‘‘ یعنی اسے زندہ دفن کر دے۔ یہی وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی سخت مذمت کی ہے۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھیں ، یعنی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرنا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں قسموں میں سے اس بدتر قسم کو اللہ کی طرف منسوب کیا جس کو خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے اسے منسوب کر دیتے تھے؟ پس بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے۔
[60] چونکہ یہ بری مثال تھی جس کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں ، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوۡءِ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، بری مثال ہے‘‘ ناقص مثال اور کامل عیب ﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’اور اللہ کے لیے مثال ہے سب سے بلند‘‘ اس سے مراد ہر وصف کمال ہے اور تمام کائنات میں جو بھی صفت کمال پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور کسی بھی پہلو سے کسی نقص کو مستلزم نہیں ہے اور اس کے اولیاء کے دلوں میں بھی مثل اعلیٰ یعنی اس کی تعظیم، اجلال، محبت، اس کی طرف انابت اور اس کی معرفت جاگزیں ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ زبردست ہے‘‘ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ جو تمام اشیاء کو ان کے لائق محل و مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اور جو بھی فعل سرانجام دیتا ہے، اس پر اس کی ستائش کی جاتی ہے اور اس کے کمال پر اس کی ثنا بیان کی جاتی ہے۔