اور (یاد کرو!) جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ، پھر نہ اجازت دی جائے گی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفرکیااورنہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (84) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، عذاب کو تو نہ کم کیا جائے گا ان سے اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (85) اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، اپنے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنھیں تھے ہم پکارتے تیرے سوا، پس وہ پھینک ماریں گے ان کی طرف یہ بات (اور کہیں گے) بلاشبہ تم یقینا جھوٹے ہو (86) اور وہ پیش کریں گے اللہ کی بارگاہ میں ، اس دن فرماں برداری (عاجزی) اور گم ہو جائے گا ان سے وہ جو تھے وہ افترا باندھتے (87)
[85,84] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افترا پردازی کیا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا‘‘ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انھوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لیے کھڑا کرے گا، وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہو گا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں گے۔ جب وہ گواہی دیں گے تو لوگوں کے خلاف فیصلہ مکمل ہو جائے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ یعنی کفار کو معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کو اپنے موقف کے بطلان کے معلوم ہونے کے بعد ان کا عذر، محض جھوٹا عذر ہو گا، جو ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اگر وہ دنیا میں واپس جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں تو انھیں واپس جانے کی اجازت ملے گی نہ ان سے ناراضی کو دور کیا جائے گا بلکہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو ان کو جلدی سے عذاب میں دھکیل دیا جائے گا، وہ عذاب جس میں کوئی تخفیف کی جائے گی نہ ان کو کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ مہلت کیونکہ ان کے دامن میں کوئی نیکی نہ ہو گی۔ ان کے اعمال کوشمار کر کے ان کے سامنے کیا جائے گا وہ اس کا اقرار کریں گے اور شرمسار ہوں گے۔
[86]﴿ وَاِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا شُرَؔكَآءَهُمۡ ﴾ ’’اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی قیامت کے روز جب وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کو دیکھیں گے اور ان کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا اور ان کے لیے انکار ممکن نہیں رہے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَؔكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ﴾’’تو کہیں گے، اے ہمارے رب! یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے۔‘‘ یہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ سفارش کر سکتے ہیں ۔ وہ خود پکار پکار کر ان خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا اعلان کر کے ان کا انکار کریں گے اور ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان عداوت ظاہر ہو جائے گی۔﴿ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس ڈالیں گے وہ ان کی طرف بات‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ اِنَّـكُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’بے شک تم جھوٹے ہو‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری بھی عبادت کیا کرتے تھے۔ پس ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے کبھی الوہیت کے استحقاق کا دعویٰ کیا تھا، اس لیے اپنے آپ کو کوسو۔
[87] تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’اور ان سے گم ہو جائیں گے جو جھوٹ وہ باندھتے تھے‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور ان کے دل خود اپنے آپ پر غصے اور اپنے رب کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں گے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انھی بداعمالیوں کی سزا دی ہے جن کا انھوں نے ارتکاب کیا۔