Tafsir As-Saadi
16:91 - 16:92

اور پورا کرو تم عہد اللہ کا جب آپس میں عہدو پیماں کرو تم اور نہ توڑو تم قسمیں (اپنی) بعد پختہ کر لینے کے ان کو، جبکہ بنالیا تم نے اللہ کو اوپر اپنے (عہدو پیماں کے) ضامن، بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو (91) اور نہ ہو تم مانند اس عورت کی جس نے توڑ ڈالا کاتا ہوا سوت اپنا بعد مضبوطی (سے کاتنے) کے، ٹکڑے ٹکڑے کر کے، کہ بناؤ تم اپنی قسموں کو دھوکا دینے کا ذریعہ آپس میں ، اس لیے کہ ہو ایک جماعت بڑھی ہوئی (مال و افراد میں ) دوسری جماعت سے، یقینا آزماتا ہے تمھیں اللہ ساتھ اس (عہد و پیماں ) کےاور البتہ ضرور بیان کرے گا وہ تمھارے لیے دن قیامت کے وہ چیز کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے (92)

[91] یہ آیت کریمہ ان تمام عہدوں کو شامل ہے جو بندے نے اپنے رب کے ساتھ کیے ہیں ، مثلاً:عبادات، نذریں اور قسمیں وغیرہ جن کو بندے نے اپنے آپ پر لازم کیا ہو جبکہ وہ صحیح اور جائز ہوں اور یہ اس معاہدے کو بھی شامل ہے جو دو بندوں کے درمیان ہو، مثلاً:لین دین کرنے والے دو اشخاص کے درمیان معاہدہ اور وہ وعدہ جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرتا ہے اور اپنے آپ پر اس کو لازم قرار دے لیتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں قدرت رکھتے ہوئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے سے روکا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡؔكِيۡدِهَا﴾ ’’اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو۔‘‘ یعنی اللہ کے نام پر قسمیں کھانے کے بعد ان کو مت توڑو۔ ﴿ وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا‘‘ اے معاہدہ کرنے والو! ﴿كَفِيۡلًا﴾ ’’ضامن‘‘ اس لیے تمھارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اس کے مطابق عمل نہ کرو جس پر تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن مقرر کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کو ترک کرنا اور اس کی استہانت ہے۔ حالانکہ دوسرا فریق تم سے حلف لینے اور اس تاکید پر راضی ہو گیا جس میں تم نے اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا۔ جس طرح اس نے تمھیں امین بنایا اور تم پر اپنے حسن ظن کا اظہار کیا ہے اسی طرح تم بھی اپنے الفاظ اور تاکید کی پاسداری کرو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ جانتا ہے‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کی نیت اور قصد کے مطابق جزا دے گا۔
[92]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا﴾ اپنے عہد توڑنے میں بدترین مثال نہ بنو جو بدعہدی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والوں کی صفت پر دلالت کرتی ہے ﴿ كَالَّتِيۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا﴾’’اس عورت کی مانند، جس نے مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔‘‘ یعنی پہلے اس نے محنت سے سوت کاتا، جب وہ مضبوط اور اس کی خواہش کے مطابق ہوگیا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، گویا اس نے پہلے کاتنے کی محنت کی، پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں محنت کی۔ پس ناکامی، تھکاوٹ، حماقت اور عقل کی کمی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اسی طرح جو کوئی عہد کو توڑتا ہے وہ ظالم، جاہل اور احمق ہے، اس کے دین اور مروت میں نقص ہے۔﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًۢا بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِيَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ آپس میں ، اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے‘‘ یعنی تمھاری یہ حالت نہیں ہونی چاہیے کہ موکد اور پختہ قسمیں اٹھاؤ، پھر موقع اور حالات کی تلاش میں رہو۔ پس ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر معاہدہ کرنے والا کمزور ہو اور مخالف فریق پر قدرت نہ رکھتا ہو تو معاہدے کو پورا کرے مگر قسم اور معاہدے کی حرمت اور تعظیم کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بے بسی کی بنا پر اور اگر معاہدہ کرنے والا طاقتور ہو اور معاہدہ توڑنے میں اسے کوئی دنیاوی مصلحت نظر آتی ہو تو اسے توڑ ڈالے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے عہد کی پروا نہ کرے۔ یہ سب کچھ خواہشات نفس کے تابع ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی مراد، مروت انسانی اور اخلاق فاضلہ پر مقدم رکھا گیا ہو اور یہ اس لیے کہ ایک قوم عدد اور طاقت کے لحاظ سے دوسری قوم سے بڑی ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَبۡلُوۡؔكُمُ اللّٰهُ بِهٖ﴾ ’’یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس کے ذریعے سے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے مصیبتوں کے اسباب مقرر کرتا ہے جس سے سچا اور وفادار شخص بدعہد اور بدبخت شخص سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’اور آئندہ کھول دے گا اللہ تمھارے لیے قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑتے تھے‘‘ پس وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دے گا اور بدعہدی کرنے والے کو رسوا کرے گا۔