Tafsir As-Saadi
16:106 - 16:109

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109)

[108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔
[109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔