Tafsir As-Saadi
16:114 - 16:118

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118)

[114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔
[115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔
[116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔
[117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘
[118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘