او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔
[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔
[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔
[5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔
[6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔
[7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔
[8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔