Tafsir As-Saadi
16:126 - 16:128

اور اگر بدلہ لو تم تو بدلہ لو برابر اس (تکلیف) کے جو ایذاء دیے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور البتہ اگر صبر کرو تم تو وہ (صبر) بہت بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے (126) اور آپ صبر کیجیے اور نہیں ہے صبر کرنا آپ کا مگر اللہ (کی توفیق) سے ہی اور نہ غم کریں آپ ان پر اور نہ ہوں آپ تنگی میں اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں (127) بلاشبہ اللہ ساتھ ہے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے کہ وہ نیکی کرنے والے ہیں (128)

[126] اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم بدلہ لو‘‘ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی‘‘ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم صبر کر لو‘‘ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
[128,127] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور صبر کیجیے اور آپ کے لیے صبر ممکن نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے‘‘ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ وَلَا تَكُ فِيۡ ضَيۡقٍ ﴾ ’’اور تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘ یعنی آپ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں ۔ ﴿ مِّؔمَّا يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’ان کی چالوں سے‘‘ کیونکہ ان کے مکروفریب کا وبال انھی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی معونت توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاصی سے اجتناب کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انھیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔