Tafsir As-Saadi
17:15 - 17:15

جس شخص نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پاتا ہے اپنے نفس ہی کے (فائدے کے) لیےاورجو کوئی گمراہ ہوا تو یقینا وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے نفس ہی پراور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا، بوجھ کسی دوسرے کااور نہیں ہیں ہم عذاب دینے والے، جب تک کہ (نہ) بھیجیں ہم کوئی رسول (15)

[15] یعنی ہر نفس کی ہدایت اور گمراہی خود اس کے لیے ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ذرہ بھر تکلیف اس سے دور ہٹا سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے وہ اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ اس پر رسالت کی حجت قائم نہ ہو جائے اور یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے اس حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا یا اس کے پاس حجت پہنچی ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترت (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ ان کی طرف رسول نہ بھیج لے کیونکہ وہ ظلم سے پاک اور منزہ ہے۔