Tafsir As-Saadi
17:37 - 17:39

اور مت چل تو زمین میں اتراتے ہوئے، بلاشبہ تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہر گز نہیں پہنچ سکے گا تو پہاڑوں کو لمبائی میں (37) تمام یہ (مذکورہ کام) ہے برائی ان کی نزدیک آپ کے رب کے ناپسند (38) یہ اس میں سے ہے جو وحی کی ہے آپ کی طرف آپ کے رب نے حکمت سے اور نہ ٹھہراؤ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پس ڈال دیے جاؤ گے جہنم میں ملامت زدہ، دھتکارے ہوئے (39)

[37]﴿وَلَا تَمۡشِ فِي الۡاَرۡضِ مَرَحًا﴾ ’’اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل‘‘ یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ ﴿اِنَّكَ ﴾ ’’بے شک تو‘‘ ﴿ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا﴾ ’’بے شک تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر‘‘ بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلاشبہ جن چیزوں کا تونے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور رذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔
[38]﴿ كُلُّ ذٰلِكَ ﴾ مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ ﴿كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے‘‘ یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی برا سلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔
[39]﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے ﴿ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ﴾ ’’ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے‘‘ اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں ، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سیدالمرسلینﷺ کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کر دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتدا کی تھی۔ فرمایا:﴿ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِيۡ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں ‘‘ یعنی ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًؔا ﴾ ’’ملامت زدہ دھتکارا ہوا‘‘ یعنی تیرے لیے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔