Tafsir As-Saadi
17:56 - 17:57

کہہ دیجیے! بلاؤ ان کو جنھیں (معبود) سمجھتے ہو تم سوائے اللہ کے، پس نہیں وہ اختیار رکھتے تکلیف ہٹانے کا تم سےاور نہ (اسے) بدلنے ہی کا (56) یہ لوگ جنھیں وہ (مشرک) پکارتے ہیں ، تلاش کرتے ہیں وہ اپنے رب کی طرف ذریعۂ قرب کہ کون سا ان کا زیادہ قریب ہے (اللہ سے)؟ اور امید رکھتے ہیں وہ اس کی رحمت کی اور ڈرتے ہیں وہ اس کے عذاب سے، بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا(واقعی) ہے ڈرنے کی چیز (57)

[56]﴿ قُلِ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ، جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں … کہ اگر وہ سچے ہیں تو ﴿ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ﴾ ’’پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو‘‘ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں ﴿ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اللہ کو چھوڑ کر‘‘ پس غور کرو کہ آیا وہ تمھیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمھیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں ۔ ﴿ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ﴾ ’’سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا‘‘ یعنی یہ خود ساختہ معبود، فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَلَا تَحۡوِيۡلًا﴾ ’’اور نہ بدلنے کا‘‘ اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کر سکتے ہیں ۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انھیں کس لیے پکارتے ہو؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بے بس اور بے اختیار ہستیوں کو معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں تجربے کی وجہ سے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کو اپنے گمراہ آباء و اجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے… جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے… اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے، جیسا کہ مشرکین کا قول ہے:﴿ اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ﴾(صٓ : 38؍5) ’’کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں ، وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اوراس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں ۔ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ﴾ ’’وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں ‘‘ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے ﴿ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ ﴾ ’’وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نزدیک ہے‘‘ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں ﴿وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗ﴾ ’’اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًؔا﴾ ’’آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں ۔خوف، امید اور محبت، یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے، ہر بھلائی کی اساس ہیں ۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کر لی، اس کے تمام امور مکمل ہو گئے اور اگر قلب ان امور سے خالی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدوجہد کرتا ہے جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، خیرخواہی اور حتی المقدور ان کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔