اور کہہ دیجیے! میرے بندوں سے کہ وہ کہیں وہ بات کہ وہ بہت ہی اچھی ہو، بلاشبہ شیطان جھگڑا ڈلواتا ہے ان کے درمیان، بے شک شیطان، ہے واسطے انسان کے دشمن صریح (53) تمھارا رب خوب جانتا ہے تمھیں ، اگر وہ چاہے تو رحم کرے تم پر یا اگر چاہے تو عذاب دے تمھیں اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار (بنا کر)(54) اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور البتہ تحقیق فضیلت دی ہم نے بعض نبیوں کو اوپر بعض کےاور دی ہم نے داود کو زبور (55)
[53] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ لِّعِبَادِيۡ يَقُوۡلُوا الَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ﴾ ’’کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔‘‘ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے ، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے‘‘ یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں ، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔
[54]﴿ رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ﴾’’تمھارا رب تمھارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے‘‘ اس لیے تمھارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری کوئی مصلحت ہے بسااوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡؔكُمۡ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔‘‘ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا‘‘ کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں ۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں ۔
[55]﴿ وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو جانتا ہے۔ پس ان میں سے جو کوئی جس چیز کا مستحق ہے اور اس کی حکمت جس کا تقاضا کرتی ہے اسے وہی عطا کرتا ہے اور وہ تمام حسی اور معنوی خصائل میں ان کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کرتا ہے۔ جیسے اس نے بعض انبیاء علیہ السلام کو وحی میں ان کے اشتراک کے باوجود بعض فضائل اور خصائص میں ، جو محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، بعض پر فضیلت دی ہے، مثلاً:اوصاف ممدوحہ، اخلاق جمیلہ، اعمال صالحہ، کثرت متبعین اور ان میں سے بعض پر کتابوں کا نزول جو عقائد اور احکام شریعت پر مشتمل ہیں ، جیسا کہ داؤدu پر زبور نازل فرمائی جو کہ ایک معروف آسمانی کتاب ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے اور ان میں سے بعض کو کتاب شریعت عطا کی تو پھر محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار اس کتاب اور نبوت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس فضیلت کا کیوں انکار کرتے ہیں جو آپ کو عطا کی گئی۔