تمھارا رب تو وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیاں سمندر میں تاکہ تلاش کرو تم فضل (رزق) اس کا بے شک وہ ہے تمھارے ساتھ بہت رحم کرنے والا (66) اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گم ہو جاتے ہیں وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اس ایک اللہ کے، پھر جب وہ نجات دیتا ہے تمھیں خشکی کی طرف تو منہ پھیر لیتے ہو تم اور ہے انسان نہایت ناشکرا (67) کیا پس بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ وہ دھنسا دے تمھیں ایک جانب خشکی کے یا بھیج دے تم پر سنگ ریزوں والی سخت ہوا؟ پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے کوئی کار ساز (68) یا بے خوف ہو گئے ہو تم اس سے کہ و ہ لوٹا دے تمھیں اسی (سمندر) میں دوسری بار، پھر وہ بھیجے تم پر توڑ پھوڑ دینے والی ہوا کہ وہ غرق کر دے تمھیں بوجہ اس کے کہ کفر کیا تم نے، پھر نہ پاؤ تم اپنے لیے ہم پر بدلے اس کے کوئی پیچھا کرنے والا؟ (69)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کشتیوں ، سفینوں اور دیگر سواریوں کو مسخر کر دیا اور ان کو الہام کے ذریعے سے کشتی سازی کی صنعت ودیعت کی، موجیں مارتا ہوا سمندر ان کے لیے مسخر کر دیا جس کی پیٹھ پر یہ سفینے تیرتے پھرتے ہیں تاکہ بندے اس پر سوار ہوں اور اپنے مال ومتاع کی نقل و حمل میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے وہ ہمیشہ سے ان پر بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ انھیں ہر وہ چیز عنایت کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں اور جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔
[67] اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو یہ دلالت کرتی ہے کہ باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ جب سمندر میں انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نیچے بلند ہوتی ہوئی موجوں کی وجہ سے جب وہ ہلاکت سے ڈرتے ہیں تو وہ ان تمام زندہ اور مردہ معبودوں کو بھول جاتے ہیں جنھیں وہ اپنی خوش حالی میں اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے… اس وقت تو ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے کسی وقت بھی ان کمزور معبودوں کو نہیں پکارا جو کسی قسم کی تکلیف دور کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کائنات کو پیدا کرنے والے کو پکارتے ہیں جس کو تمام مخلوق اپنی سختیوں میں مدد کے لیے پکارتی ہے اور وہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے اور اسی کی سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔پس جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کر دیتا ہے اور انھیں صحیح سلامت کنارے پر لگا کر سمندر کی ہلاکت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انھوں نے اللہ کو پکارا تھا، پھر وہ ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ کسی کو محروم کر سکتی ہیں اور اپنے رب اور مالک سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ یہ انسان کی جہالت اور نا سپاسی ہے۔ بے شک انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سخت ناسپاس ہے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ راہ راست دکھا دے۔ پس اسے عقل سلیم سے نواز دیتا ہے اور وہ راہ راست پر گامزن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مصیبتیں دور کرتا ہے، اہوال سے نجات دیتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ سختی اور نرمی میں ، خوشحالی اور تنگدستی میں تمام اعمال کو صرف اسی کے لیے خالص کیا جائے۔ رہا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اس کی کمزور عقل کے حوالے کر دے تو وہ مصیبت اور سختی کے وقت صرف موجودہ اور عارضی مصلحت کو ملحوظ اور اس حال میں اپنی نجات کو مدنظر رکھتا ہے اور جب اسے اس مصیبت سے نجات حاصل ہوتی ہے اور اس سے سختی دور ہو جاتی ہے تو وہ اپنی حالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو بے بس کر دیا اور اس کے دل میں آخرت کا خیال تو کجا اسے اپنے دنیاوی انجام کے بارے میں بھی کبھی خیال نہیں آتا۔
[69,68] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کہہ کر یاد دہانی کروائی ہے۔ ﴿ اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡـبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ﴾ ’’کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں ) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو تمھیں عذاب کے طور پر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بھیج دے اور یہ وہ عذاب ہے جو ان کو پہنچے گا اور وہ سب ہلاک ہو جائیں اس لیے یہ نہ سوچو کہ سمندر کے سوا کہیں اور عذاب نہیں آسکتا اور اگر تم یہی سمجھتے ہو تو کیا تم اس بات سے محفوظ ہو کہ ﴿ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰؔى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ ﴾ ’’وہ تمھیں پھر سمندر میں لے جائے دوسری مرتبہ، پھر بھیجے وہ تم پر سخت ہوا کا جھونکا‘‘ یعنی سخت تیز ہوا جو جہاں سے گزرے ہر چیز کو توڑ کر رکھ دے۔ ﴿ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ﴾ ’’پس وہ تمھیں تمھاری ناشکری کی وجہ سے غرق کر دے، پھر نہ پاؤ تم اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا‘‘ یعنی کوئی تاوان اور مطالبہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذرہ بھر تم پر ظلم نہیں کیا۔