جس دن بلائیں گے ہم تمام انسانوں کو ان کے امام کے ساتھ، پس جو شخص کہ دیا گیا اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں ، سو یہی لوگ پڑھیں گے اعمال نامے اپنے اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تاگے برابر بھی (71) اور جو کوئی ہے اس (دنیا) میں اندھا تو وہ ہو گا آخرت میں بھی اندھا اور بہت زیادہ بھٹکا ہوا راہ سے (72)
[71] قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو (اپنی عدالت میں ) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشد و ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہو گی اور اس امت کو وہی رسول، اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش كيے جائیں گے، جسے لے کر رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں ۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ﴿ فَمَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾ ’’پس جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں ‘‘ کیونکہ اس نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے اپنے ہادی و راہنما کی پیروی کی تھی اور اس کی کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تب اس کی نیکیاں بڑھ گئیں اور اس کے گناہ کم ہو گئے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يَقۡرَءُوۡنَؔ كِتٰبَهُمۡ ﴾ ’’پس وہ (خوش خوش) اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے‘‘ کیونکہ وہ اس اعمال نامے میں ایسی چیزیں دیکھیں گے جنھیں دیکھ کر انھیں فرحت و سرور حاصل ہو گا۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾ ’’اور ان پر ایک دھاگے برابر ظلم نہیں ہوگا‘‘ یعنی انھوں نے جو نیک عمل كيے ہیں اس بارے میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
[72]﴿ وَمَنۡ كَانَ فِيۡ هٰؔذِهٖۤ ﴾ اور جو رہا اس دنیا میں ﴿ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’اندھا‘‘ یعنی حق کے دیکھنے سے۔ پس اس نے حق کو قبول کیا نہ اس کی پیروی کی بلکہ وہ گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ﴿ فَهُوَ فِي الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰؔى ﴾ ’’تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا‘‘ یعنی جس طرح وہ دنیا میں جنت کے راستے پر گامزن نہ ہوا اسی طرح وہ آخرت میں بھی جنت کے راستے کو دیکھ نہ سکے گا ﴿ وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بہت دور پڑا ہوا راستے سے‘‘ کیونکہ عمل کی جزا بھی اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر امت کو اس کے دین اور کتاب کی طرف بلایا جائے گا کہ آیا اس نے اس کتاب کے مطابق عمل کیا یا نہیں ؟ ان کا کسی ایسے نبی کی شریعت کے مطابق مواخذہ نہیں کیا جائے گا جس کی اتباع کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو صرف اسی وقت عذاب دیتا ہے جب اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو اور اس نے اس کی مخالفت کی ہو اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور انھیں بہت زیادہ فرحت و سرور حاصل ہو گا اور اس کے برعکس برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور وہ غم زدہ ہوں گے وہ شدت حزن و غم اور ہلاکت کی وجہ سے اپنے اعمال ناموں کو پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے۔