اور نہیں منع کیا ہمیں (اس سے) کہ بھیجیں ہم نشانیاں مگر (اس بات نے) کہ جھٹلایا تھاان کو پہلے لوگوں نےاوردی تھی ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی (نشانی) واضح، پس ظلم کیا انھوں نے اس کے ساتھ، اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے (59) اور جب کہا ہم نے آپ سے ، کہ بے شک آپ کے رب نے گھیرا ہوا ہے لوگوں کواورنہیں بنایا ہم نے اس رؤیا (دیکھنے) کو، وہ جو دکھایا ہم نے آپ کو مگر ایک آزمائش لوگوں کے لیےاور اس درخت (زقوم) کو بھی جس پر لعنت کی گئی ہے قرآن میں، اور ہم ڈراتے ہیں انھیں ، پس نہیں بڑھاتا انھیں (ہمارا ڈرانا) مگر زیادہ بڑی سرکشی ہی میں (60)
[59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہو جائے گا، جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنھوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پانی پینے کے دن تمام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس بڑے بڑے معجزات آتے، تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چیز ان سے اوجھل اور ان پر مشتبہ ہو گئی جو رسول لے کر آیا تھا کہ آیا یہ حق ہے یا باطل کیونکہ رسول تو ان کے پاس بے شمار دلائل و براہین لے کر آیا ہے جو اس کی دعوت کی حقانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ یہ دعوت اس شخص کی ہدایت کی موجب ہے جو ہدایت کا طلب گار ہے ان کے سوا دیگر معجزات و براہین بھی انھی دلائل کی مانند ہیں جو رسول اللہﷺ پیش کر چکے ہیں انھوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے اور ان کی حالت یہ ہو تو معجزات کا نازل نہ کرنا ان کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہے۔ ﴿وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّا تَخۡوِيۡفًا﴾ ’’اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے‘‘ یعنی ان آیات کا یہ مقصد نہ تھا کہ یہ ایمان کی موجب اور اس کی طرف دعوت دیتی تھیں اور ایمان کا حصول ان کے بغیر ممکن نہ تھا بلکہ ان آیات کا مقصد صرف تخویف و ترہیب تھا تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں ۔
[60]﴿ وَاِذۡ قُلۡنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ﴾’’اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ پس ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں جہاں یہ چھپ سکیں اور کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں اللہ سے بھاگ کر پناہ لے سکیں اور یہ چیز عقل مند کے لیے ان امور سے باز رہنے کے لیے کافی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں جس نے تمام لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔﴿ وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِيۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’اور نہیں کیا ہم نے وہ خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے۔‘‘ اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد شب معراج ہے۔ ﴿ وَالشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ فِي الۡقُرۡاٰنِ﴾ ’’اور (ایسے ہی) وہ درخت جس پر قرآن میں پھٹکار ہے‘‘ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد زقوم (تھوہر) کا پودا ہے جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے… معنی یہ ہے کہ یہ دونوں امور لوگوں کے لیے آزمائش بن گئے یہاں تک کہ کفار اپنے کفر پر جم گئے اور ان کا شر اور زیادہ ہو گیا جب آپ نے ان کو بعض امور کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ فرمایا تھا اور آپ نے خبر دی تھی کہ ’’مجھے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا‘‘ جو ایک خارق عادت واقعہ تھا تو بعض کمزور ایمان مومن اپنے ایمان سے پھر گئے۔ زقوم کے پودے کے بارے میں خبر دینا، جو جہنم کی تہہ سے اگتا ہے، یہ بھی ایک خارق عادت معاملہ ہے جو ان کے لیے تکذیب کا موجب بنا۔ پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں اور بڑے بڑے خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کر لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ اور اس کے سبب سے ان کے شر میں اضافہ نہ ہو جاتا؟ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان خوارق کو ان سے ہٹا دیا۔ یہیں سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ بڑے بڑے امور کا قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور نہ ہونا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ وہ امور جن کی نظیر کا لوگوں نے مشاہدہ نہ کیا ہو بسا اوقات ان کی عقل ان کو قبول نہیں کر پاتی اور یوں یہ چیز بعض اہل ایمان کے دلوں میں شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہے اور ایسا مانع (رکاوٹ)بن جاتی ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتی ہے اور ان کو اسلام سے متنفر کرتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے عام الفاظ استعمال كيے ہیں جو تمام امور کو شامل ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔﴿ وَنُخَوِّفُهُمۡ١ۙ فَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا طُغۡيَانًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم ان کو ڈراتے ہیں (نشانیوں کے ساتھ) تو وہ ان کو بڑی شرارتوں میں زیادہ ہی کرتی ہیں ۔‘‘ تخویف ان کی سرکشی کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے اور شر کی محبت اور خیر سے بغض رکھنے اور خیر کی عدم پیروی کے بارے میں یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے۔